انوارالاسلام — Page 83
روحانی خزائن جلد ۹ ۸۳ انوار الاسلام نصرانیوں کو نصیب ہوئیں کیونکہ کوئی ان میں سے مارا گیا اور کوئی زخمی ہوا یعنی بیمار شدید ہوا اور مرمر کے بچا اور کوئی لعنتوں کے زنجیر میں گرفتار ہوا اور کوئی بھاگ گیا اور اسلامی جھنڈے کے نیچے پناہ لے کر جان بچائی پس اس کھلی کھلی اور فاش شکست سے انکار کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہے لیکن اگر مغلوب اور ذلیل پادریوں کو خواہ نخواہ غالب قرار دینا ہے تو ہم آپ کی زبان کو نہیں پکڑ سکتے ورنہ بیچ تو یہی ہے کہ اس پیشگوئی کے بعد پادریوں پر بہت ہی ذلت کی مار پڑی ہے عین میعاد پیشگوئی میں پادری رائٹ صاحب عین جوانی میں جہنم کی رونق افروزی کے لئے اس دنیا سے بلائے گئے اور ان کی موت پر اس قدر سیاپے اور دردناک نوحے ہوئے کہ عیسائیوں نے آپ اقرار کیا کہ بے وقت ہم پر قہر نازل ہوا پھر دوسری ذلت دیکھو کہ پچاس برس کی مولویت کا دعویٰ جس کی بناء پر عمادالدین وغیرہ کا اسلامی تعلیم میں دخل دینا جاہلوں کی نظر میں معتبر سمجھا جاتا تھا نجاست کی طرح جھوٹ کی بد بو سے بھرا ہوا نکلا اور یکدفعہ بوسیدہ بنیاد کی طرح گر گیا اور ہزار لعنت کا رسہ ہمیشہ کے لئے تمام ان پادریوں کے گلے میں پڑ گیا جو علم عربی میں دخل رکھنے کا دم مارتے تھے کیا یہ ایسی ذلت اور رسوائی ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ سکے اور کیا یہ وہ پہلی ذلت نہیں ہے جو پادریوں کو ہندوستان میں اور پنجاب میں نصیب ہوئی جس کے اشتہارات یورپ اور امریکہ اور تمام بلاد میں پھیل کر عام طور پر جہالت اور دروغگو ئی ان پادریوں کی جو مولوی کہلاتے تھے 1 ثابت ہوئی اور ہمیشہ کیلئے یہ داغ ان کی پیشانی پر لگ گیا جواب ابدالد ہر تک دور نہیں ہوسکتا۔ کیا ایسی ذلت کی کوئی نظیر ہمارے فریق میں پیشگوئی کے بعد آپ نے دیکھی ۔ بھلا ذرا کلمہ طیبہ پڑھ کر بیان تو کروتا ہم بھی سنیں اور پھر یہ ذلتیں اور رسوائیاں ابھی ختم کہاں ہوئیں ہمارا اشتہار پر اشتہار نکالنا یہاں تک کہ تین ہزار تک انعام دینا اور آتھم صاحب کی قسم کھانے سے جان نکلنا کیا اس سے اسلام کی ہیبت اور صداقت بدیہی طور پر ثابت نہیں کیا اب بھی عیسائیوں کے ذلیل اور جھوٹے ہونے میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ