انوارالاسلام — Page 82
روحانی خزائن جلد ۹ ۸۲ انوار الاسلام اس کی یہی سنت قدیم ہے کہ وہ خوف سے بھرے ہوئے رجوع کے وقت خواہ وہ رجوع بعد ایام خوف قائم رہنے والا ہو یا نہ ہو ضرور عذاب کو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا ہے مگر مومنوں کی موت اگر اس کا وقت پہنچ گیا ہو تو وہ بطور عذاب نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک پل ہے جو حبیب کو حبیب کی طرف پہنچاتا ہے اور وہ مرنے کے بعد اس لذت اور راحت کے وارث ہو جاتے ہیں جس کی نظیر اس دنیا میں نہیں مگر کافر کے لئے موت جہنم کا پہلا زینہ ہے جو اس سے گرتے ہی واصل ہاو یہ ہوتا ہے۔ (9) نواں اعتراض یہ ہے کہ اگر پادری رائٹ فریق مخالف میں سے پیشگوئی کی میعاد میں مر گئے تو اس کے مقابلہ میں آپ کے کئی مقرب عیسائی ہو گئے۔ الجواب: اے صاحب آپ متوجہ ہو کر سنیں اور ہم سچ کہتے ہیں اور کاذب پر لعنت اللہ ہے کہ ہمارا کوئی مقرب یا بیعت کا سچا تعلق رکھنے والا عیسائی نہیں ہو ہاں دو بد چلن اور خراب اندرون آدمی آنکھوں کے اندھے جن کو دین سے کچھ بھی تعلق نہیں تھا منافقانہ طور کے بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گئے تھے لیکن ہم نے یہ معلوم کر کے کہ یہ بدچلن اور خراب حالت کے آدمی ہیں ان کو اپنے مکان سے نکال دیا تھا اور نا پاک طبع پا کر بیعت کے سلسلہ سے الگ کر دیا تھا۔ اب فرمائیے کہ ان کا ہم سے کیا تعلق رہا اور ان کے مرتد ہونے سے ہمیں کیا رنج پہنچا۔ پاور یوں پر یہ بھی زوال آیا کہ ان کو انہوں نے قبول کیا اور آخر دیکھیں گے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ حرام خور آدمی کسی قوم کیلئے جائے فخر نہیں ہوسکتا اگر آپ کو اس بیان میں شک ہو تو قادیان میں آویں اور ہم سے پورا پورا ثبوت لے لیں لیکن رائٹ تو اپنی اس حیثیت منصبی اور سرگروہی کی عزت سے معطل نہیں کیا گیا تھا اور وہی تھا جس نے مباحثہ کے پہلے انگریزی میں شرائط لکھے تھے پھر آپ کیوں ایسی صریح اور چمکتی ہوئی صداقت پر خاک ڈالتے ہیں یہ بات نہایت صاف ہے کہ اس جنگ میں جس کا نام پادریوں نے خود اپنے منہ سے جنگ مقدس رکھا تھا شکست کی چاروں صورتیں ان بندہ پرست