انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 448

انجام آتھم — Page 41

روحانی خزائن جلدا ام خدا کا فیصلہ مرنا بہتر ہے ۔ پادری صاحبان خوب جانتے ہیں کہ جھوٹوں پر یسوع نے بھی بددعائیں کی ۴ کے ہیں۔ چنانچہ یسوع متی باب ۲۳ میں یہود کے علماء کو مخاطب کر کے کہتا ہے ۔ "اے سانپو اور سانپ کے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھا گو گے ۔ ۳۶ ۔ میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا یعنی عذاب اور باب ۲۳ آیت ۱۳ میں یسوع بار بار جھوٹوں مکاروں کی تباہی چاہتا ہے اور ویل کا لفظ استعمال کرتا ہے جو ہمیشہ بد دعا کے لئے آتا ہے ۔ غرض ایسا جھوٹا جو جھوٹ کو کسی طرح چھوڑنا نہ چاہے اس کا وجود تمام فتنوں سے زیادہ فتنہ ہے اور فتنہ کو ہر ایک طرح سے فرو کرنا راستبازوں کا فرض ہے۔ پس جس حالت میں عیسائی نہایت غلو سے کہتے ہیں کہ دین اسلام انسان کا افترا ہے۔ اور اہل اسلام دلی یقین رکھتے ہیں کہ عیسائی در حقیقت انسان پرست ہیں تو کیا لازم نہیں ہے کہ جس طرح ہو سکے یہ بات فیصلہ یا جائے ۔ ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسی پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں ۔ اور مریم کا بیٹا کشتیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔ یوں تو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کر رہے ہیں مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نسبت بھی کبھی غور کی ۔ کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی ۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مار کھالی ۔ کیا یہ سمجھ آ سکتا ہے کہ بندے نا چیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں، اس کے منہ پر تھو کیں، اس کو پکڑیں ، اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے ۔ کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی شکل پر آدم ہوا۔ دوسرا یسوع ۔ تیسرا کبوتر * اور تینوں میں سے ایک بچہ والا اور دو لا ولد ۔ کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ خدا شیطان کے و نوٹ ۔ عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں ۔ حالانکہ کبوتر ان کا دیوتا ہے۔ ان سے ہندو ا چھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے ۔ منہ