انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 448

انجام آتھم — Page 40

روحانی خزائن جلدا ۴۰ خدا کا فیصلہ جاتے ہیں ویسے ہی کینے بھی ساتھ ساتھ ترقی پکڑتے جاتے ہیں سو اس نومیدی کے وقت میں میرے نزدیک ایک نہایت سہل و آسان طریق فیصلہ ہے اگر پادری صاحبان قبول کر لیں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے۔ ا اول مجھے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ایسا خدائی فیصلہ کرانے کے لئے سب سے زیادہ مجھے جوش ہے اور میری دلی مراد ہے کہ اس طریق سے یہ روز کا جھگڑا انفصال پا جائے ۔ اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی کل املاک منقولہ و غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہوں گی عیسائیوں کو دے دوں گا اور بطور پیشگی تین ہزار روپیہ تک ان کے پاس جمع بھی کر سکتا ہوں ۔ اس قدر مال کا میرے ہاتھ سے نکل جانا میرے لئے کافی سزا ہو گی ۔ علاوہ اس کے یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دستخطی اشتہار سے شائع کر دوں گا کہ عیسائی فتح یاب ہوئے اور میں مغلوب ہوا اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اس اشتہار میں کوئی بھی شرط نہ ہو گی لفظا نہ معناً ۔ اور ربانی فیصلہ کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں میدان مقابلہ کے لئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیار ہوں ۔ پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدائے تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کا ذب اور مورد غضب ہے خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کا ذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کے رو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا نمرود پر کیا اور نوح کی قوم پر کیا اور یہود پر کیا۔ حضرات پادری صاحبان یہ بات یا درکھیں کہ اس باہمی دعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بد دعا ہے بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹ کو چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ ایک جہان کے زندہ ہونے کے لئے ایک کا جیسا کہ نجاشی نے بھی جو عیسائی بادشاہ تھا تم کھا کر کہا کہ یسوع کا رتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کی نسبت لکھا ہے مگر نجاشی اس کے بعد کھلا کھلا مسلمان ہو گیا۔ منہ نوٹ ۔ ان صاحبوں میں سے کوئی منتخب ہونا چاہئے ۔ اول ڈاکٹر مارٹن کلارک ۔ دوسرے پادری عمادالدین پھر پادری ٹھا کر داس یا حسام الدین بمبئی یا صفدر علی بھنڈارہ یا طامس باول یا فتح مسیح بشرط منظوری دیگران