انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 448

انجام آتھم — Page 39

روحانی خزائن جلدا ۳۹ خدا کا فیصلہ کی آزادی جیسا کہ پادریوں کو حاصل ہے ویسا ہی ہمیں بھی ہے اگر ہم گورنمنٹ کے انصاف پر (۳۹) یقین نہ رکھتے تو ممکن نہ تھا کہ ان اپنی شکایتوں کا اظہار بھی کر سکتے لیکن ہم گورنمنٹ کو یہ تکلیف دینا ہی نہیں چاہتے کہ وہ مذہبی مباحثات کی آزادی کو بالکل بند کر دے۔ ہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ ان شرائط کی پابندی سے کسی قدر اس آزادی کو محدود کر دیا جائے جس کی نسبت ہم ایک علیحدہ اشتہار شائع کر چکے ہیں لیکن گورنمنٹ اپنی مہمات ملکیہ میں مصروف ہے اس کو اس فیصلہ کے لئے تو فرصت نہیں کہ تو حید اور تین مجسم خداؤں کے عقیدہ کے بارے میں کچھ اپنی رائے لکھے اور وہ کارروائی کرے جیسا کہ تیسری صدی کے بعد کانسٹنٹائن فرسٹ قسطنطنیہ کے بادشاہ نے اڑھائی سو بشپ کو جمع کر کے اپنے اجلاس میں موحد عیسائیوں اور تین اقنوم کے قائل عیسائیوں کا باہم مباحثہ کرایا تھا اور آخر کار فرقہ موحدین کو ڈگری دی تھی اور خود ان کا مذہب بھی قبول کر لیا تھا ایسا ہی یہ گورنمنٹ عالیہ بھی کرتے لیکن یہ گورنمنٹ ایسے تنازعات میں پڑنا نہیں چاہتی ۔ پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔ مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نومیدی ہو چکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے حاشیہ۔ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد ایجاد ہوا ہے۔ جیسا کہ ڈریپر بھی اپنی کتاب میں بڑے بڑے علماء کے حوالہ سے لکھتا ہے موجد اس مسئلہ کا بشپ اتھا نا سی اس الگو نڈ رائن تھا جو صدی سوم کے بعد ہوا ہے ۔ جب اس نے یہ مسئلہ شائع کرنا چاہا تو اسی وقت بشپ ایری اس سے اسکا منکر کھڑا ہو گیا اور یہاں تک اس مباحثہ میں عوام اور خواص کا مجمع ہوا کہ روم کے بادشاہ تک خبر پہنچ گئی ۔ اتفاقاً اس کو مباحثات سے دلچسپی تھی اس نے چاہا کہ اس اختلاف کو اپنے حضور میں ہی فریقین کے علماء سے رفع کر اوے چنانچہ اس کے اجلاس میں بڑی سرگرمی سے یہ مباحثات ہوئے اور نہایت لطف کے ساتھ کونسل کی کرسیاں بچھیں اور مناظرہ کرنے والے دو سو پچاس نامی پادری تھے ۔ آخر موحدین کا فرقہ جو یسوع کو محض انسان اور رسول جانتا تھا غالب آیا۔ اسی دن بادشاہ نے یوٹی ٹیرین کا مذہب اختیار کیا اور چھ بادشاہ اس کے بعد موحد رہے ۔ چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخط لکھا تھا جس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے وہ بھی موحد ہی تھا اس نے قرآن کے اس مضمون پر اطلاع پا کر کہ مسیح صرف انسان ہے تصدیق کی۔ Bishop Arius۔ Bishop Athanasius Alexandrian ✓۔ John William Drapar L