انجام آتھم — Page 25
روحانی خزائن جلدا ۲۵ انجام آنقم جو ہر ایک سچائی سے بھرا ہوا کانشنس بآسانی اس کو قبول کر سکتا ہے۔ زہر خورانی کے اقدام اور تین حملوں ﴿۲۵﴾ کا منصوبہ ایک ایسی مکر وہ بناوٹ ہے کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی شریف عیسائی کے دل نے بھی اس کو قبول کیا ہو۔ یا ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اس کی طرف خیال آ سکتا ہو۔ لیکن ہر ایک محقق اور پاک دل کو اس امر میں شک کرنے کے لئے کوئی وجہ دکھائی نہیں دے گی کہ وہ خوف جس کا آنقم کو اقرار ہے بجز پیشگوئی کی عظمت کے اور کوئی صحیح مصداق اس کا موجود نہیں اگر آتھم نے ان جھوٹے بہتانوں کو بیان نہ کیا ہوتا اور یہ عذر کرنا کہ وہ اس سے ڈرا کہ کوئی خود غرض اس کو ضرر نہ پہنچا وے تو شاید کوئی سادہ طبع اس کو قبول کر لیتا اور کم سے کم یہ سمجھ لیتا کہ آتھم کا یہ فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے لوگوں پر حق کو مشتبہ کر دیا لیکن ایسے سادہ طور سے بیان کرنا ایسے مفتری کے لئے کب ممکن تھا کہ جو در حقیقت پیشگوئی سے ڈر کر اپنی مجرمانہ حالت کی تحریک سے ناجائز بہانوں کے سوچ میں پڑا اور اس نے سچائی سے آگے قدم رکھ کر جھوٹ اور بہتان سے کام لینا چاہا جس سے وہ باز پرس اور طلب ثبوت کے لائق ہوا۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ پیشگوئی سے ڈرنے کا بار ثبوت آتھم پر نہیں تھا کیونکہ جبکہ اس نے ڈرنے کا اقرار کر کے بلکہ خوف کو اپنی حرکات سے ظاہر کر کے پھر وجوہ خوف کے ایسے بے ہودہ اور جعلی بیان کیے جو سراسر بہتان اور بے دلیل تھے تو بلا شبہ یہ بوجھ اس کی گردن پر تھا کہ وہ اس کو ثابت کرتا اور اس کو چاہئے تھا کہ اس افترا کے الزام سے بری ہونے کے لئے کہ جو طریقہ مستقیمہ انصاف سے اس کی نسبت عائد ہوتا تھا اپنی صفائی کے گواہ پیش کرتا۔ نائش اور قسم سے اس کا گریز کرنا صریح حقیقت کو چھپانے کے لئے تھا جبکہ اس کو اور اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو ہماری طرف سے اس قدر دکھ اور صدمہ پہنچ چکا تھا جس سے زیادہ دنیا میں پہنچنا غیر ممکن ہے۔ تو ایسا مظلوم کس طرح خاموش رہ سکتا تھا۔ ہم نے یہ سزا اپنے لئے خود تجویز کر لی تھی کہ وہ قسم کھا کر چار ہزار روپیہ نقد ہم سے لے لے۔ سو اس نے نہ چاہا کہ قسم کھانے کی طرف متوجہ ہو۔ اب منصفین کے سوچنے کا یہ بڑا بھاری موقعہ ہے کہ کیوں اس نے ایسے پہلو سے ہے حاشیہ ۔ پرچہ شحنہ ہند میرٹھ یکم ستمبر ۱۸۹۶ء کے پہلے صفحہ میں ہی ایک نامہ نگار صاحب نے اس عاجز کی پیشگوئی آتھم وغیرہ کی نسبت کچھے نکتہ چینی کر کے اخیر پر اپنا نام انصاف طلب لکھا ہے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے کہ کوئی