انجام آتھم — Page 23
روحانی خزائن جلداا ۲۳ انجام آنقم ٹالنا چاہا مگر ہم نے قسم کو بول نہ کیا۔ کیا یہ روا ہے کہ بے دلیل کسی کوایسے سنگین جرائم کا ملزم ٹھہرایا (۲۳) جائے اور اس کی روش اور چال چلن پر ناحق دھبہ لگایا جاوے۔ برائے خدا ذرہ سوچو کہ کسی بھلے مانس پر بے ثبوت تہمتیں لگا کر پھر کسی طور سے ان تہمتوں کا ثبوت نہ دینا کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے یا بد معاشوں کا !!! عیسائیوں نے آتھم کے ان بہتانوں کا بار بار ذکر تو کیا مگر یہ نہیں دکھلایا کہ ان کے نزدیک اس کا ثبوت کیا ہے۔ کیا وہ لوگ جو ان واقعات سے ذاتی واقفیت کا اقرار رکھتے ہیں کسی غار میں زندہ موجود ہیں یا وہ بھی آتھم کے ساتھ ہی مر گئے ؟۔ کیا عیسائی دیانت یہی تھی جواب ظاہر ہوگئی۔ اگر کامل ثبوت موجود نہیں تو مختصر اور نا کافی پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے۔ یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتح یاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالی بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دیوے یعنی جو مکر بنایا گیا اور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کر کے پھینک دے گا اور اس کی لاش لوگوں کو دکھاوے گا۔ اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں سے ننگا کر کے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل ہینہ ظاہر کر دیں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ پہلے مومن بھی پچھلے مومن بھی۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲۔ اب دیکھو آج اس الہام کے موافق کیسے صفائی سے اس پیشگوئی کی حقیقت کھل گئی۔ کیا آج وہ سب مرگئے یا نہیں جنہوں نے امرتسر میں آتھم کو گاڑی میں بٹھا کر بازاروں میں پھرایا تھا۔ کیا آج ثابت ہو گیا یا نہیں کہ ان کی وہ ساری خوشیاں جھوٹی تھیں۔ اس پیشگوئی میں خدائے رحیم نے صاف وعدہ فرمایا تھا کہ گوآ تھم نے الہامی پیشگوئی کی وجہ سے بہت غم و ہم اپنے دل پر ڈال کر خدا کی سنت قدیمہ سے فائدہ اٹھایا اور اس کی موت میں تاخیر ہو گئی مگر بیبا کی کے وقت پھر خدا اس کو پکڑے گا اور ہلاک کرے گا۔ سواب یہ پیشنگوئی ڈہرے طور پر دونوں پہلوؤں پر پوری ہو گئی۔ اول آنھم کے ہم وغم کی وجہ سے اس طرح پر پوری ہوئی کہ موافق الہامی شرط کے اس کی موت میں تا خیر ڈال دی گئی پھر آتھم کی بے باکی اور سخت انکار کی حالت میں اس طرح پر پوری ہوئی کہ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق