انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 448

انجام آتھم — Page 10

روحانی خزائن جلدا ہیں جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں ہوتی ۔ ۱۰ انجام آتھم عیسائی اس بات کو مانیں یا نہ مانیں مگر منصف لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ آتھم کو ان بیہودہ افتراؤں کی کیوں ضرورت پیش آئی اور کیوں اور کس وجہ سے یہ باتیں اس نے میعاد گزرنے کے بعد پیش کیں اور میعاد کے اندر میت کی طرح کیوں خاموش رہا حالانکہ دشمن کی مجرمانہ حرکت کو اسی وقت شائع کرنا چاہئے تھا جبکہ دشمن کی طرف سے ارتکاب جرم کا ہوا تھا۔ اس افترا کا یہی سبب تھا کہ آتھم نے اپنی کمال سراسیمگی سے پیشگوئی کی میعاد میں دنیا پر ظاہر کر دیا تھا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے سخت خوف میں پڑ گیا اور اس کے دل کا آرام جاتا رہا۔ اکثر وہ روتا تھا۔ اور اس کے ڈرنے والے دل کا نقشہ اس کے چہرہ پر نمودار تھا اور مردہ پرستی کا ایمان اس کو قوت اور استقامت نہیں بخش سکتا تھا بلکہ اس وقت سچائی کے خوف نے اس کے ایسے پلید خیالات کو اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا تھا۔ سو جس خوف کا اس نے اپنی سخت بیقراری سے ثبوت دے دیا تھا میعاد گزرنے پر ضرور تھا کہ وہ اپنی قوم کے آگے اس کی کچھ تاویل کرتا اور اس کی کوئی وجہ بتلاتا ، تاکسی کے ذہن کا اس طرف انتقال نہ ہو کہ وہ تمام خوف پیشگوئی کی وجہ سے تھا سو اس نے تین حملوں اور زہر دینے کی تجویز کو بہانہ بنایا ۔ تا سب لوگ بول اٹھیں کہ جبکہ آتھم بیچارہ پر اس قدر سخت حملے ہوئے تو وہ بیچارہ کیوں سراسیمہ اور بیقرار نہ رہتا۔ اگر یہ بہانہ نہیں تھا اور واقعی طور پر ہم نے کوئی تعلیم یافتہ سانپ چھوڑا تھا۔ یا ہمارے سوار اور پیادے اس کے قتل کرنے کے لئے اس کی کوٹھی پر آئے تھے یا اس کو زہر دینے کے لئے ہماری بقيه حاشيه غرض چونکہ سزاد ینا یا سزا کا وعدہ کرنا خدائے تعالیٰ کے ان صفات میں داخل نہیں جو اُم الصفات ہیں کیونکہ در اصل اس نے انسان کے لئے نیکی کا ارادہ کیا ہے اس لئے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے اور اپنی تبدیلی کرنے پر قادر ہے فیصلہ ناطقہ نہیں ہے۔ لہذا اس کے بر خلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں۔ اور گو بظاہر کوئی وعید شروط سے خالی ہو مگر اس کے ساتھ پوشیدہ طور پر ارادہ الہی میں شروط ہوتی ہیں بجز ایسے الہام کے جس میں ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ شروط نہیں ہیں۔ پس ایسی صورت میں وہ قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پا جاتا ہے یہ نکتہ معارف الہیہ میں سے نہایت قابل قدر اور جلیل الشان نکتہ ہے جو سورہ فاتحہ میں مخفی رکھا گیا ہے۔ فتدبر ۔ منه