انجام آتھم — Page 343
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۴۳ ضمیمه رساله انجام آتھم جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔ بیشک خدا نے ان لوگوں کو ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق کر دیا۔ مباہلہ کا کھلا (۵۹) کھلا اثر اس کو کہتے ہیں۔ اور خدا کی تائید اس کا نام ہے اور تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔ ہم اس مضمون کے خاتمہ میں یہ بیان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جن نا پاک طبع لوگوں نے تکفیر پر کمر باندھی ہے ان کے مقابل پر ایسے لوگ بھی بہت ہیں جن کو عالم رویا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عاجز کی نسبت دریافت کیا اور آپ نے فرمایا کہ وہ شخص در حقیقت منجانب اللہ ہے اور اپنے دعوئی میں صادق ہے چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت سی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ جس شخص کو اس تحقیق کا شوق ہے وہ ہم سے اس کا ثبوت لے سکتا ہے۔ اور غزنوی افغانوں کی جماعت جو نا پاک خیالات اور تکذیب کی بلا میں گرفتار ہیں۔ ان کیلئے اگر وہ انصاف اور خدا ترسی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں ان کے والد بزرگوار مولوی عبد اللہ صاحب کی شہادت کافی ہے۔ ہمارے پاس وہ گواہ موجود ہیں جو حلف سے بیان کر سکتے ہیں کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے اپنے کشف کی رو سے جتلایا تھا کہ ایک نور آسمان سے نازل ہوا اور قادیان کی سمت میں اترا ہے اور ان کی اولا د اس نور سے محروم رہ گئی۔ اس گواہی میں حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار بھی شریک ہیں۔ جو مولوی عبداللہ کے دوست اور محسن بھی ہیں بلکہ ان کے بھائی محمد یعقوب نے ایک جلسہ میں قسم کھا کر کہا تھا کہ مولوی عبد اللہ نے اس نور کے ذکر کے وقت اس عاجز کا نام بھی لیا تھا کہ یہ نور ان کے حصہ میں آگیا اور میری اولا د بے نصیب اور بے بہرہ رہی لہذا مناسب ہے کہ عبد الحق غزنوی اور عبدالجبار جو اپنی شرارت اور خباثت سے تکفیر اور گالیوں پر زور دے رہے ہیں۔ اپنے فوت شدہ بزرگ کے کلمات کی تحقیق ضرور کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی وصیت کی نافرمانی کر کے ان کے عاق بھی ٹھہر جائیں۔ اس بزرگ مولوی | عبداللہ نے اپنی زندگی کے زمانہ میں میرے نام بھی دو خط بھیجے تھے اور ان خطوں میں قرآنی آیتوں کے الہام کے ساتھ مجھے خوشخبری دی تھی کہ تم کفار پر غالب رہو گے اور پھر وفات کے بعد میرے پر ظاہر کیا تھا۔ کہ میں آپ کے دعوئی کا مصدق ہوں۔ چنانچہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انہوں نے میرے دعوی کو سن کر تصدیق کی اور صاف لفظوں میں مجھے کہا کہ ”جب میں دنیا میں تھا۔ تو میں امید رکھتا تھا کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوگا ۔ یہ ان کے الفاظ ہیں۔ ولعنة اللہ علی الکاذبین۔ اور اس وقت کے سجادہ نشینوں میں سے دو بزرگ اور ہیں جنہوں نے اس عاجز کے مقام اور مرتبہ سے انکار نہیں کیا اور قبول کیا ہے۔ ایک تو میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والے پیر نواب صاحب بہاولپور ہیں۔