انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 448

انجام آتھم — Page 339

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۹ ضمیمه رساله انجام آتھم براہین میں ایسے اسرار بہت ہیں جواب کھلتے جاتے ہیں۔ مثلاً براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۷ میں یہ ۵۵۶ پیشگوئی ہے۔ كِتَابُ الـولـي ذُو الفقار علی ۔ اس پیشگوئی کی تشریح وہ الہام خوب کرتا ہے جو جلسہ مذاہب کے اشتہار میں درج کیا گیا ہے ۔ یعنی الله اکبر خربت خیبر خیبر کے فتح کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اور ان کا ہتھیار ذوالفقار تھی۔ سو یہ الہام بتلاتا ہے کہ اس عاجز کو ذوالفقار کی جگہ وہ معارف دئے گئے ہیں جو کتابوں میں لکھے جاتے ہیں۔ اور خیبر سے مراد مسلمان صورت مولویوں کی قلعہ بندی ہے جو دراصل یہودی السیرت ہیں۔ اب ان کا قلعہ خراب ہو جائے گا۔ چنانچہ جلسہ مذاہب میں ان لوگوں کی خوب بے عزتی ہوئی ” چنانچہ انگریزی اخباروں نے بھی آزادی کے ساتھ اس کی شہادت دی۔ ایسا ہی برا این احمدیہ میں احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق کی پیشگوئی کی نسبت صفحہ ۱۵۱۰ اور صفحہ۵۱۱ میں اور صفحہ ۵۱۵ میں پہلے سے خبر موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ وان لم یعصمک الناس فیعصمک الله حاشیہ۔ سول ملٹری گزٹ اور آبزرور نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہی مضمون تمام مضامین پر غالب رہا۔ اور ان اخباروں نے اس کی اعجازی قوت کو اس حد تک مان لیا ہے کہ گویا اس تقریر نے تمام حاضرین پر ایک مسمریزم کا عمل کر دیا ۔ اور تمام طبیعتیں اس کی طرف کھینچی گئی ہیں۔ اور آبزرور میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس مضمون کا انگریزی میں ترجمہ کر کے یورپ اور امریکہ میں پھیلائیں تا انہیں حقیقی اسلام کی خبر ہو۔ اور بیدار مغز لوگوں نے اس مضمون کو صرف عالی درجہ کا مضمون نہیں سمجھا بلکہ اس کے اعجاز کے قائل ہو گئے چنانچہ آج چودہ جنوری ۱۸۹۷ء کو سیالکوٹ محلہ اٹاری سے ایک کارڈ مرسلہ اللہ دتا صاحب میرے پاس پہنچا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ چونکہ وہ مضمون جو آپ کی طرف سے لاہور میں پڑھا گیا تھا وہ ایک معجزہ کے رنگ میں تھا اس لئے میں اس خوشی کے شکریہ میں سو روپیہ نقد آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں اور مبارک باد دیتا ہوں کہ اس سے اسلام کی فتح ہوئی۔ خدا تعالیٰ میاں اللہ دتا صاحب کو اس خوشی کے عوض میں بہت سی ذاتی خوشیاں بھی دکھلاوے جو اسلام کی فتح سے خوش ہے خدا اس سے خوش ہے۔ اب کیا اس اعجاز صریح کو جس سے بچے مسلمانوں نے یہ خوشیاں ظاہر کیں کوئی چھپا سکتا ہے۔ پس عبد الحق کو سوچنا چاہیے کہ مباہلہ کے یہ اثر ہوتے ہیں۔ نہ یہ کہ متوفی بھائی کی ایک بیوہ اور بوڑھی عورت پر قبضہ کر کے اس کو مباہلہ کی فتح یابی کی دلیل ٹھہر اوے۔ اور بزرگ بھائی کی موت یاد نہ آوے لعنت ہے ایسی خوشی پر ۔ شیخ محمد حسین بطالوی بھی سوچیں! کہ کیا کبھی ان کا مضمون بھی اعجاز تصور ہو کر ہزاروں آدمیوں نے اس پر گواہی دی ہے کیا کبھی اعجازی مبارک بادی میں دوا پیسہ بھی ان کو انعام ملے ہیں۔ منہ