انجام آتھم — Page 336
روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم ۵۲) اور انذاری نشانوں کے لئے ضروری ہے کہ اول کسی قسم کی معصیت زمین کے باشندوں سے صادر ہو۔ سو اس خسوف کے پہلے جو معصیت ظہور میں آئی تھی وہ یہی تھی کہ علماء نے اس عاجز کی تکفیر اور تکذیب نہایت اصرار سے کی اور ان کے دل کسوف خسوف کے رنگ میں ہو گئے ۔ پس چونکہ آسمان زمین کے واقعات کے لئے آئینہ عکس نما کا حکم رکھتا ہے اس لئے یہ کسوف خسوف عکس کے طور پر آسمان پر ہو گیا۔ ہمیشہ کسوف خسوف زمینی لوگوں کی ظلمانی حالت کا شاہد ہوتا ہے۔ مگر دونوں گرہن کا رمضان میں جمع ہونا علماء کی تکذیب اور تکفیر اور دلی تاریکی کی ایک تصویر دکھلائی گئی۔ حق یہی ہے اگر چاہو تو قبول کرو۔ ان مولویوں نے اس بات پر کمر باندھی ہے کہ جہاں تک ممکن ہے خدا کے نشانوں کی تکذیب کریں ۔ جاہلوں کو جو خود مردے ہوتے ہیں ان لوگوں نے دھو کے دے دے کر خراب کر دیا ہے۔ جس طرح یہ لوگ اپنی حماقت سے اس پیشگوئی کو بطور تکذیب پیش کرتے ہیں جو آتھم کے متعلق ہے۔ اسی طرح وہ دوسری پیشگوئی کو بھی پیش کرتے ہیں جو احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق تھی ۔ مگر افسوس کہ وہ اپنی نا انصافی سے ذرہ اس بات کو نہیں سوچتے کہ اس پیشگوئی کا ایک جز نہایت صفائی سے میعاد کے اندر پورا ہو چکا ہے اور دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ پس ضرور تھا کہ جن لوگوں کو ایسا غم اور ایسی مصیبت پہنچی وہ تو بہ اور خوف سے اس لائق ہو جاتے کہ خدا تعالی اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ میں تا خیر ڈال دیتا۔ یسعیاہ نبی کی پیشگوئی جو قطعی طور پر یہ بتلاتی تھی کہ اسرائیل کا بادشاہ پندرہ دن میں مرجائے گا۔ وہ پیشگوئی اس بادشاہ کے تضرع کے سبب سے پندرہ سال کے ساتھ خدا نے بدل دی۔ یہ قصہ ہماری حدیثوں میں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں بھی اب تک موجود ہے۔ جس سے دنیا میں کسی اہل کتاب کو انکار نہیں۔ یو نہ نبی کی کتا بے بھی اب تک بائبل کے ساتھ شامل ہے۔ جس میں یونس کی قطعی پیشگوئی کا قوم کی توبہ استغفار پر ٹل جانا صاف اور صریح لفظوں میں لکھا ہے۔ سو سمجھنا چاہئے کہ احمد بیگ کی موت ایسا دردناک ماتم تھا جس سے تمام گھر ویران ہو گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے چار بچے اور ایک بیوہ چھوڑ کر مر گیا۔ اور اس کی موت کے بعد جس غم اور مصیبت میں وہ سب پڑ گئے اس کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے۔ کیا ایسی مصیبت کی موت اور پھر سراسر پیشگوئی کے مطابق طبعا یہ تا شیر نہیں باب ۳ آیت ۴ دیکھو۔