انجام آتھم — Page 332
۳۳۲ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم ۳۸ نشان کو اس کے لئے خاص کر دیا جائے۔ سو پیشگوئی کا بھی مفہوم یہی ہے کہ یہ نشان کسی دوسرے مدعی کو نہیں دیا گیا خواہ صادق ہو یا کاذب۔ صرف مہدی موعود کو دیا گیا ہے۔ اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے زمانہ میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں۔ اس سے بیشک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ ورنہ میری عداوت کے لئے اس قدر عظیم الشان معجزہ سے انکار نہ کریں۔ اے اسلام کے عار مولویو! ذرہ آنکھیں کھولو۔ اور دیکھو کہ کس قدر تم نے غلطی کی ہے۔ جہالت کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث میں کسوف خسوف کو بے نظیر نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ اس نسبت کو بے نظیر ٹھہرایا گیا ہے جو مہدی کے ساتھ اس کو واقع ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس طور کا خسوف کسوف جو اپنی تاریخوں اور مہینہ کے لحاظ سے مہدی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یہ تعلق اس کا پہلے اس سے کبھی کسی دوسرے کے ساتھ نہیں ہوا۔ اور تفسیر اس قول کی اس طرح پر ہے کہ ان لمهدینا آیتین لم تكونا لاحد منذ خلق السموات والارض ۔ پس اس جگہ غرض تو یہ ہے کہ یہ دو نشان اس خصوصیت کے ساتھ مہدی کو دیئے گئے ہیں پہلے اس سے کسی کو نہیں دئے گئے اور لم تكونا کا لفظ آیتین کی تشریح کرتا ہے کہ وہ مہدی کے ساتھ خاص کئے گئے ہیں۔ خسوف کسوف کی کوئی نرالی حالت بیان کرنا منظور نہیں بلکہ اس عبارت میں دونوں نشانوں کی مہدی کے ساتھ تخصیص منظور ہے۔ نہ یہ کہ خسوف کسوف کی کوئی نرالی حالت بیان کی جائے۔ اور اگر نرالی حالت بیان کرنا منظور ہوتا تو عبارت یوں چاہیے تھی کہ بنکسف القمر والشمس على نهج ما انكسفا منذ خلق السموات | والارض یعنی ایسے طور سے چاند اور سورج کا گرہن ہوگا کہ پہلے اس سے جب سے آسمان و زمین پیدا کیا گیا ہے ایسا خسوف کسوف کبھی نہیں ہوا۔ اب میں نے خوب تشریح کر کے اصل معنوں کو نگا کر کے دکھلا دیا ہے ۔ اب بھی اگر کوئی نہ سمجھے گا تو وہ پاگل کہلائے گا۔ اور اگر چہ پیشگوئی کے لفظوں سے یہ بات ہر گز نہیں نکلتی کہ خسوف کسوف کوئی نرالے طور پر ہوگا مگر خدا تعالیٰ نے ان مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لئے اس خسوف کسوف میں بھی ایک امر خارق عادت رکھا ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۸۹۴ء پایونیر اور سول ملٹری گزٹ