انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 448

انجام آتھم — Page 331

۳۳۱ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم کہ حدیث میں چاند گرہن میں قمر کا لفظ آیا ہے۔ پس اگر یہ مقصود ہوتا کہ پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا ۴۷ ہے تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا بلکہ ہلال کا لفظ آتا کیونکہ کوئی شخص اہل لغت اور اہل زبان میں سے پہلی رات کے چاند پر قمر کا لفظ اطلاق نہیں کرتا بلکہ وہ تین رات تک ہلال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ پس ایک ایماندار کے لئے یہ ایک بدیہی قرینہ ہے کہ اس جگہ پہلی رات سے مہینہ کی پہلی رات مراد نہیں ۔ بلکہ چاند گرہن کی پہلی رات مراد ہے۔ اگر مہینہ کی پہلی رات مراد ہوتی تو اس جگہ بلال کا لفظ چاہیے تھا۔ نہ قمر کا ۔ گویا یوں عبارت چاہیے تھی کہ ينكسف الهلال الاول ليلة - سواب سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ اس علمیت کے ساتھ مولوی کہلاتے ہیں اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ پہلی رات کے چاند کو عربی زبان میں کیا کہتے ہیں ۔ اور یہ خیال کہ اس حدیث میں جو یہ فقرہ ہے کہ لم تكونا منذ خلق السموات والارض اس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ خسوف و کسوف بطور خارق ہوگا نہ ایسا خسوف کسوف جو عجمین کے نزدیک معلوم ومعروف ہے۔ یہ وہم بھی اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ یہ لوگ علم عربی اور عالمانہ تدبر سے بالکل بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔ یہودیوں کے لئے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں مگر یہ خالی گدھے ہیں اور اس شرف سے بھی محروم ہیں جو ان پر کوئی کتاب ہو۔ ہر ایک عقلمند جس کو ذرہ انسانی عقل میں سے حصہ ہو سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ لم تكونا کا لفظ آیتین سے متعلق ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ دونوں نشان بجز مہدی کے پہلے اس سے اور کسی کو عطا نہیں کئے گئے ۔ پس اس جگہ یہ کہاں سے سمجھا گیا کہ یہ کسوف خسوف خارق عادت ہوگا۔ بھلا اس میں وہ کونسا لفظ ہے ۔ جس سے خارق عادت سمجھا جائے ۔ اور جبکہ مطلوب صرف یہ بات تھی کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا کسی کے لئے اتفاق نہیں ہوا ۔ صرف مہدی موعود کے لئے اتفاق ہوگا تو پھر کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے قدیم نظام کے برخلاف چاند گرہن پہلی رات میں جبکہ خود چاند کا اعدم ہوتا ہے کرتا۔ خدا نے قدیم سے چاند گرہن کے لئے ۱۳۔۱۴۔ ۱۵ اور سورج گرہن کے لئے ۲۷ ۲۸ ۲۹ مقرر کر رکھی ہیں۔ سو پیشگوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا۔ جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان پیشگوئی کے لفظ صاف ہیں جن سے صریح ثابت ہوتا ہے کہ لم تکونا کے لفظ سے صرف یہ مطلب ہے کہ مہدی موعود کو ایک عزت دی جائے اور اس