انجام آتھم — Page 320
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۲۰ ضمیمه رساله انجام آنقم (۳۶) ایک جماعت مبائلین کی ہو۔ صرف ایک یا دو آدمی نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ فَقُلْ تَعَالَوْا میں تَعَالَوْا کے لفظ کو بصیغہ جمع بیان فرمایا ہے۔ سو اس نے اس جمع کے صیغہ سے اپنے نبی کے مقابل پر ایک جماعت منذ بین کو مباہلہ کے لئے بلایا ہے نہ شخص واحد کو بلکہ من حاجک کے لفظ سے جھگڑنے والے کو ایک شخص واحد قرار دے کر پھر مطالبہ جماعت کا کیا ہے۔ اور یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جھگڑنے سے باز نہ آوے اور دلائل پیش کردہ سے تسلی نہ پکڑے تو اس کو کہہ دو کہ ایک جماعت بن کر مباہلہ کے لئے آویں۔ سواسی بنا پر ہم نے جماعت کی قید لگا دی ہے جس میں یہ صریح فائدہ ہے کہ جو امر خارق عادت بطور عذاب مکذبین پر نازل ہو وہ مشتبہ نہیں رہے گا۔ مگر صرف ایک شخص میں مشتبہ رہنے کا احتمال ہے۔ اس جگہ اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ تمام مخالفین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر اس کتاب کی اشاعت کے بعد کوئی مخالف مباہلہ کے لئے تیار ہو جائے اور اس کے اشتہارات بھی چھپ جاویں تو ہر یک مباہلہ کے خواہشمند پر واجب ہوگا کہ اس کے ساتھ شامل ہوکر مباہلہ کر لے۔ اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور پھر کسی دوسرے وقت میں مباہلہ کی درخواست بھیجے تو ایسی درخواست منظور نہیں کی جاوے گی اور ایسا شخص کسی طور سے قابل التفات نہیں سمجھا جاوے گا چاہئے کہ ہر ایک شخص ہمارے اس اشتہار کو یا در کھے اور اس کے موافق کار بند ہو۔ بالآخر ہم اس جگہ نقل خط میاں غلام فرید صاحب پیر نواب بہاولپور جو ایک صالح اور متقی مرد مشائخ پنجاب میں سے ہیں۔ اس غرض سے درج کرتے ہیں کہ تا دوسرے مشائخ مدعوین بھی کم سے کم ان کے نمونہ پر چلیں۔ اور اگر زیادہ توفیق یاری نہ کرے تو البتہ ان کے خیال سے کم نہ رہیں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص اس قدر بھی اس عاجز کی تصدیق کرے گا جیسا کہ میاں غلام فرید صاحب نے اپنے مخط کے ذریعہ سے کی اس کا بھی خدا ان لوگوں میں حشر کرے گا جنہوں نے سچائی کو رد کرنا نہیں چاہا۔ دل کا ایک ذرہ تقویٰ بھی انسان کو خدا تعالیٰ کے غضب سے بچالیتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایک بت کی طرح میری پوجا کی جائے میں صرف اس خدا کا جلال چاہتا ہوں جس کی طرف سے میں مامور ہوں۔ جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے۔ وہ اس خدا کو بے عزتی سے دیکھتا ہے جس نے مجھے مامور کیا ہے اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو آل عمران : ۶۲