انجام آتھم — Page 321
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۲۱ ضمیمه رساله انجام آتھم قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ انسان میں اس سے زیادہ کوئی خوبی نہیں کہ تقویٰ کی راہ کو اختیار (۳۷) کر کے مامور من اللہ کی لڑائی سے پر ہیز کرے اور اس شخص کی جلدی سے تکذیب نہ کرے جو کہتا ہے کہ میں مامور من اللہ ہوں اور محض تجدید دین کے لئے صدی کے سر پر بھیجا گیا ہوں ۔ ایک متقی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اس چودھویں صدی کے سر پر جس میں ہزاروں حملے اسلام پر ہوئے ایک ایسے مجدد کی ضرورت تھی کہ اسلام کی حقیت ثابت کرے۔ ہاں اس مسجد کا نام اس لئے مسیح ابن مریم رکھا گیا کہ وہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے اور خدا اس وقت چاہتا ہے کہ جیسا کہ مسیح کو پہلے زمانہ میں یہودیوں کی صلیب سے نجات دی تھی اب عیسائیوں کی صلیب سے بھی اس کو نجات دے۔ چونکہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنانے کے لئے بہت کچھ افترا کیا ہے۔ اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ مسیح کے نام پر ہی ایک شخص کو مامور کر کے اس افترا کو نیست و نابود کرے۔ یہ خدا کا کام ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔ قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ میں وفات پا کر آسان پر اٹھایا گیا ہے۔ لہذا اس کا نزول بیروزی ہے نہ کہ حقیقی اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسی علیہ السلام وقوع میں آگیا۔ کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑیں گے نہ کہ ان کی زندگی میں۔ پس اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو مانا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے۔ اور یہ صریح باطل ہے بلکہ آیت تو بتلاتی ہے کہ عیسائی صرف مسیح کی زندگی تک حق پر قائم رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کے عہد میں ہی خرابی شروع ہو گئی تھی ۔ اگر حواریوں کا زمانہ بھی ایسا ہوتا کہ اس زمانہ میں بھی عیسائی حق پر قائم ہوتے تو خدا تعالیٰ اس آیت میں صرف مسیح کی زندگی کی قید نہ لگاتا بلکہ حواریوں کی زندگی کی بھی قید لگا دیتا۔ پس اس جگہ سے ایک نہایت عمدہ نکتہ عیسائیت کے زمانہ فساد کا معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی ۔ ایک شریر یہودی پولوس نام جو یونانی زبان سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا جس کا ذکر مثنوی رومی میں بھی ہے حواریوں میں آملا اور ظاہر کیا کہ میں نے عالم کشف میں عیسی علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ اس شخص نے عیسائی مذہب میں بہت فساد ڈالا آخر المائدة : ١١٨