انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 448

انجام آتھم — Page 315

۳۱۵ ضمیمه رساله انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱ میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ۳۱ ) عرصہ میں آٹھ ہزار کے قریب لوگوں نے میرے ہاتھ میں بیعت کی اور بعض نے قادیان پہنچ کر اور بعض نے بذریعہ خط تو بہ کا اقرار کیا۔ پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی تو بہ کا ذریعہ جو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی رضا مندی کے بعد حاصل ہوتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقوی ترقی پذیر ہے ۔ اور ایام مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔ میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔ نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں ۔ اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے نو عمر دوست جیسا کہ خواجہ کمال الدین بی ۔ اے بڑی سرگرمی سے دین کی اشاعت میں کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے چہرہ پر نیک بختی کے نشان پاتا ہوں۔ وہ دین کے لئے سچا جوش اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ نمازوں میں خشوع ظاہر کرتے ہیں۔ ایسا ہی ہمارے نو عمر دوست میرزا یعقوب بیگ و میرزا ایوب بیگ جوان صالح ہیں۔ بارہا میں نے ان کو نماز میں روتے دیکھا ہے۔ غرض یہ سب اس راہ میں فدا ہور ہے ہیں۔ ایسا ہی ہمارے محب مخلص میرزا خدا بخش صاحب اس راہ میں وہ صدق رکھتے ہیں کہ جس کے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں۔ اور ہمارے مخلص دوست منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجینئر بمبئی وہ ایمانی جوش رکھتے ہیں کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ تمام بمبئی میں ان کا کوئی نظیر بھی ہے ۔ ہمارے مخلص اور محبت اور اخلاص میں محو مولوی حکیم نور دین صاحب کا ذکر کرنا اس جگہ ضروری نہیں کیونکہ وہ تمام دنیا کو پامال کر کے میرے پاس ان فقراء کے رنگ میں آبیٹھے ہیں جیسا کہ اخص صحابہ رضی اللہ عنہم نے طریق مختیار کر لیا تھا۔ اب ہمارے مخالفین کو سوچنا چاہیے کہ اس باغ کی ترقی اور سرسبزی عبدالحق کے مباہلہ کے بعد کس قدر ہوئی ہے۔ یہ خدا کی قدرت نے کیا ہے جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے ۔ ہماری امرتسر کی مخلص جماعت ۔ ہماری لاہور کی مخلص جماعت ۔ ہماری سیالکوٹ کی مخلص جماعت ۔ ہماری کپورتھلہ کی مخلص جماعت ۔ ہماری ہندوستان کے شہروں کی مخلص جماعتیں وہ نو را خلاص اور محبت اپنے اندر رکھتی ہیں کہ اگر ایک با فراست آدمی ایک مجمع میں ان کے منہ دیکھے تو یقینا سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دئیے۔ ان کے چہروں پر ان کے محبت کے نور چمک رہے ہیں وہ ایک پہلی جماعت ہے جس کو خدا صدق کا نمونہ دکھلانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔ دسواں امر جو عبد الحق کے مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا جلسہ مذاہب لا ہور