انجام آتھم — Page 312
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۱۲ ضمیمه رساله انجام آتھم اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ ہوں یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے وہ علم قرآن اور علم زبان محض اعجاز کے طور پر بخشا کہ اس کے مقابل پر صرف عبد الحق کیا بلکہ کل مخالفوں کی ذلت ہوئی۔ ہر ایک خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام کے مولوی ہیں گویا یہ لوگ مر گئے ۔ عبد الحق کے مباہلہ کی نحوست نے اس کے اور رفیقوں کو بھی ڈبویا۔ اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں۔ جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں۔ مباہلہ کے روز سے آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا۔ جس کو شک ہو وہ ڈاک خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم سے لے لے۔ اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساتھ یا ستر روپیہ ماہواری کا خرچ ہوتا تھا۔ اب اوسط خرچ کبھی پانچ سو بھی چھ سو ماہواری تک ہو گیا اور خدا نے ایسے مخلص اور جان فشان ارادتمند ہماری خدمت میں لگا دیئے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت دیکھتے ہیں ۔ چنانچہ منجملہ ان کے جنی فی الله حاجی سیٹھ عبد الرحمن اللہ رکھا صاحب تاجر ہمدراس ہیں۔ جو اس رسالہ کے لکھنے کے وقت بھی اس جگہ موجود ہیں ۔ اور مدراس سے دور دراز سفر کر کے میرے پاس تشریف لائے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ صاحب موصوف مباہلہ کے اثر کا ایک اول نمونہ ہیں۔ جنہوں نے کئی ہزار روپیہ ہمارے سلسلہ کی راہ میں محض اللہ لگا دیا ہے ۔ اور برابر ایسی سرگرمی سے خدمت کر رہے ہیں کہ جب تک انسان یقین سے نہ بھر جائے اس قدر خدمت نہیں کر سکتا۔ وہ ہمارے درویش خانہ کے مصارف کے اول درجہ کے خادم ہیں اور آج تک یکمشت رقوم کثیرہ اس راہ میں دیتے رہے ہیں۔ علاوہ اس کے میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے ایک سو روپیہ ماہواری اعانت کے طور پر اپنے ذمہ واجب کر رکھا ہے۔ مباہلہ کے بعد ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے اور پہنچ رہی ہے میں اس کی نظیر نہیں دیکھتا۔ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے اس درجہ کی محبت دلوں میں ڈال دی۔ یہ حاجی سیٹھ عبد الرحمن صاحب وہی ہیں جو آتھم کو قسم دینے کے وقت اس بات کے لئے تیار تھے کہ اگر آ تم قسم پر روپیہ طلب کرے تو اپنے پاس سے دس ہزار روپیہ تک اس کے پاس جمع کرا دیں۔ ایسا ہی مباہلہ کے بعد جبی فی الله شیخ رحمت اللہ صاحب نے مالی اعانت سے بہت سا بوجھ ہمارے درویش خانہ کا اٹھایا ہے ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ سیٹھ صاحب موصوف