انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 448

انجام آتھم — Page 312

روحانی خزائن جلد 1 ۳۱۲ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ ہوں یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے وہ علم قرآن اور علم زبان محض اعجاز کے طور پر بخشا کہ اس کے مقابل پر صرف عبد الحق کیا بلکہ کل مخالفوں کی ذلت ہوئی ۔ ہر ایک خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام | کے مولوی ہیں گویا یہ لوگ مر گئے ۔ عبدالحق کے مباہلہ کی نحوست نے اس کے اور رفیقوں کو بھی ڈبویا۔ اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں ۔ جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں۔ مباہلہ کے روز سے آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا ۔ جس کو شک ہو وہ ڈاک خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم سے لے لے۔ اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ یا ستر روپیہ ماہواری کا خرچ ہوتا تھا۔ اب اوسط خرچ کبھی پانچ سو کبھی چھ سو ماہواری تک ہو گیا اور خدا نے ایسے مخلص اور جان فشان ارادتمند ہماری خدمت میں لگا دیئے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت دیکھتے ہیں ۔ چنانچہ منجملہ ان کے حبّی فی الله حاجی سیٹھ عبد الرحمن اللہ رکھا صاحب تاجر مدراس ہیں۔ جو اس رسالہ کے لکھنے کے وقت بھی اس جگہ موجود ہیں ۔ اور مدراس سے دور دراز سفر کر کے میرے پاس تشریف لائے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ صاحب موصوف مباہلہ کے اثر کا ایک اول نمونہ ہیں ۔ جنہوں نے کئی ہزار روپیہ ہمارے سلسلہ کی راہ میں محض اللہ لگا دیا ہے۔ اور برابر ایسی سرگرمی سے خدمت کر رہے ہیں کہ جب تک انسان یقین سے نہ بھر جائے اس قدر خدمت نہیں کر سکتا۔ وہ ہمارے درویش خانہ کے مصارف کے اول درجہ کے خادم ہیں اور آج تک یکمشت رقوم کثیرہ اس راہ میں دیتے رہے ہیں۔ علاوہ اس کے میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے ایک سو روپیہ ماہواری اعانت کے طور پر اپنے ذمہ واجب کر رکھا ہے۔ مباہلہ کے بعد ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے اور پہنچ رہی ہے میں اس کی نظیر نہیں دیکھتا۔ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے اس درجہ کی محبت دلوں میں ڈال دی۔ یہ حاجی سیٹھ عبد الرحمن صاحب وہی ہیں جو آتھم کو قسم دینے کے وقت اس بات کے لئے تیار تھے کہ اگر آتھم قسم پر روپیہ طلب کرے تو اپنے پاس سے دس ہزار روپیہ تک اس کے پاس جمع کرادیں۔ ایسا ہی مباہلہ کے بعد حبّی فی الله سیخ رحمت اللہ صاحب نے مالی اعانت سے بہت سا بوجھ ہمارے درویش خانہ کا اٹھایا ہے ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ سیٹھ صاحب موصوف