انجام آتھم — Page 308
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۰۸ ضمیمه رساله انجام آتھم کی دس تاریخ تک مقرر کرتا ہوں۔ اس عربی رسالہ کا ایسا ہی فصیح بلیغ جواب چھاپ کر شائع کریں یا ہیں۔ جیسا کہ ابھی ایک پلید ذریت شیطان فتح مسیح نام متعین فتح گڑھ نے اسی قسم کی آنجناب کی نسبت بے ادبیان کیں ۔ مگر کیا ان بدکاروں نجاست خواروں کی بے ادبیوں سے جوزندہ خدا کو چھوڑ کر ایک ناچیز مردہ کی پوجا میں لگ گئے ہیں۔ اس آفتاب ہدایت کی شان میں کچھ فرق آ گیا ؟ نہیں ۔ بلکہ یہ تمام زیادتیاں انہیں پر حسرتیں ہیں ۔ پس اسی طرح اگر اندھے پادریوں نے یا یک چشم مولویوں نے آتھم کے مقدمہ کی حقیقت کو اچھی طرح نہ سمجھا اور بد زبانی کی تو اس غلط نہیں کی واقعی ذلت انہیں کو پہنچی اور اس خطا کی سیاہی انہیں کے منہ پر لگی اور سچائی کے چھوڑنے کی لعنت انہیں پر برسی ۔ چنانچہ صد ہا آدمیوں نے بعد اس کے رورو کے تو یہ کی کہ ہم غلطی پر تھے۔ غرض کسی جھوٹی خوشی سے کسی پر سچا الزام نہیں آسکتا اور نہ جھوٹے الزام سے کوئی واقعی دختہ کسی کی عزت کو لگ سکتا ہے اور نہ اس سے کسی کی واقعی فتح سمجھی جاسکتی ہے۔ بلکہ وہ انجام کے لحاظ سے ان لوگوں پر لعنت کا داغ ہے جنہوں نے ایسی جھوٹی خوشی کی۔ پس آتھم کی نسبت جس قدر پلیدوں اور نابکاروں نے خوشیاں کیں ۔ اب وہی خوشیاں ندامت اور حسرت کا رنگ پکڑ گئیں ۔ اب ڈھونڈ و آتھم کہاں ہے۔ کیا پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق وہ قبر میں داخل نہیں ہوا ۔ کیا وہ ہادیہ میں نہیں گرایا گیا ۔ اے اندھوا میں کب تک تمہیں بار بار بتلاؤں گا۔ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کے موافق اپنے پاک الہام کو پورا کرتا۔ آتھم تو اسی وقت مر گیا تھا جبکہ میری طرف سے چار ہزار کے انعام کے ساتھ متواتر اس پر حجت پوری ہوئی اور وہ سر نہ اٹھا سکا۔ پھر خدا نے اس کو نہ چھوڑا جب تک قابض ارواح کے اس کو سپرد نہ کر دیا۔ پیشگوئی ہر ایک پہلو سے کھل گئی ۔ اب بھی اگر جہنم کو اختیار کرنا ہے تو میں عمد ا گر نے والے کو پکڑ نہیں سکتا ۔ یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ ان سب پر پوری اطلاع پا کر ایک متقی کا بدن کانپ جاتا ہے۔ اور پھر وہ خدا سے شرم کرتا ہے کہ ایسی کھلی کھلی پیشگوئی سے انکار کرے ۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ اگر کوئی میرے سامنے خدا تعالی کی قسم کھا کر اس پیشگوئی کے صدق سے انکار کرے تو خدا تعالیٰ اس کو بغیر سزا نہیں چھوڑے گا ۔ اول چاہئے کہ وہ