انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 448

انجام آتھم — Page 304

روحانی خزائن جلد ۱ انسان کا منصوبہ۔ ۳۰۴ ضمیمه رساله انجام آتھم ماسوا اس کے میں دوبارہ حق کے طالبوں کے لئے عام اعلان دیتا ہوں کہ اگر وہ اب بھی نہیں سمجھے تو نئے سرے اپنی تسلی کر لیں۔ اور یا درکھیں کہ خدا تعالیٰ سے چھ طور کے نشان میرے ساتھ ہیں۔ اول ۔ اگر کوئی مولوی عربی کی بلاغت فصاحت میں میری کتاب کا مقابلہ کرنا چاہے گا تو وہ ذلیل ہوگا ۔ میں ہر ایک متکبر کو اختیار دیتا ہوں کہ اسی عربی مکتوب کے مقابل پر طبع آزمائی کرے۔ اگر وہ اس عربی کے مکتوب کے مقابل پر کوئی رسالہ بالتزام مقدار نظم و نثر بنا سکے اور ایک مادری زبان والا جو عربی ہو قسم کھا کر اس کی تصدیق کر سکے تو میں کا ذب ہوں ۔ دوم ۔ اور اگر یہ نشان منظور نہ ہو تو میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالتقابل تفسیر بناویں یعنی رو برو ا یک جگہ بیٹھ کر بطور فال قرآن شریف کھولا جاوے ۔ اور پہلی سات آیتیں جو نکلیں ان کی تفسیر میں بھی عربی میں لکھوں اور میرا مخالف بھی لکھے ۔ پھر اگر میں حقائق معارف کے بیان کرنے میں صریح غالب نہ رہوں تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں ۔ سوم ۔ اور اگر یہ نشان بھی منظور نہ ہو تو ایک سال تک کوئی مولوی نامی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے ۔ اگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں گا۔ چہارم ۔ اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو ایک تجویز یہ ہے کہ بعض نامی مخالف اشتہار دے دیں کہ اس تاریخ کے بعد ایک سال تک اگر کوئی نشان ظاہر ہو تو ہم تو بہ کریں گے اور مصدق ہو جائیں گے ۔ پس اس اشتہار کے بعد اگر ایک سال تک مجھ سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو خواہ پیشگوئی ہو یا اور تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں ۔ پنجم ۔ اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ جا کر لیں ۔ پس اگر حاشیہ۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مباہلہ کی دعوت پر اطلاع پا کر اپنے خط میں مولوی عبد الحق غزنوی کے مباہلہ کا ذکر کیا ہے شاید اس ذکر سے اس کا یہ مطلب ہے کہ اس مباہلہ سے عبد الحق پر کوئی بلا نازل نہ ہوئی اور نہ اس طرف کوئی نیک اثر ظاہر ہوا۔ سو میں اس کو اور اس کے رفیقوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اول تو یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس مباہلہ کے بعد عبد الحق کو کوئی