انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 448

انجام آتھم — Page 298

۲۹۸ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم ۱۳) جو ایک مدت تک میرے پاس رہا ہو اور پھر اس نے کوئی نشان نہ دیکھا ہوا اور نہ کوئی خبر غیب سنی ہو ۔ میاں عبدالرحیم یا عبد الواحد پسران مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جو اس وقت مجھ کو کا فر ٹھہراتے ہیں اور سخت مخالف ہیں ذرہ ان کو قسم دے کر پوچھئے کہ کیا مقام ہوشیار پور میں جس کو گیارہ برس گزر گئے میں نے یہ الہام نہیں سنایا تھا کہ ايتها المرأة توبى توبى فان البلاء علی عقبک یعنی اے عورت ( عورت سے مراد احمد بیگ ہوشیار پوری کی بیوی کی والدہ ہے ) تو بہ تو بہ کر کہ تیری دختر اور دختر دختر پر بلا نازل ہونے والی ہے۔ سو ایک بلا تو نازل ہو گئی کہ احمد بیگ فوت ہو گیا ۔ اور بنت البنت کی بلا باقی ہے جس کو خدا تعالیٰ نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرے ۔ مگر چونکہ اس الہام میں توبی کا لفظ تو بہ کی شرط کو ظاہر کر رہا تھا اور اس شرط کو احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں نے پورا کر دیا اور وہ بہت ڈرے اور اپنے داماد کے لئے دعا اور رجوع میں لگ گئے اس لئے احمد بیگ کے داماد کی موت میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ہوگئی کیونکہ وہ خوف جو احمد بیگ کی موت نے ان کے دلوں میں بٹھا دیا وہی تو بہ کا باعث ہوا ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ تجربہ انسان کے دل پر بڑا قومی اثر ڈالتا ہے اور اس کے دل کو خوف سے بھر دیتا ہے سو احمد بیگ کی موت کے بعد ان کا حال ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفا پو چھنا چاہئے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی اتفاقاً اس کے مکان پر موجود تھا اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ ۔ میں نے ایک تازہ الہام جو انہیں دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جز پر دلالت کرتا تھا اس کو سنایا۔ اور وہ یہ تھا کہ بکر و ثیب ۔ یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے ۔ میں اس الہام کو یا د رکھتا ہوں مجھے امید نہیں کہ محمد حسین نے بھلا دیا ہو ۔ مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ کے قصہ کا ابھی نام و نشان نہ تھا اور نہ ابھی اس دوسری شادی کا کچھ ذکر تھا۔ پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو شیب یعنی بیوہ کے متعلق ہے نا دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔ پھر ایک اور الہام ہے جو فروری ۱۸۸۶ء میں شائع ہوا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ