انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiv of 448

انجام آتھم — Page xxxiv

پر سچّے دل سے ایمان رکھتے تھے۔اور آنحضرتؐ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بٹمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا سخت مکذّب تھا اور اُس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہو کر خدائی کا دعویٰ کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے اِسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اِس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو سچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اُس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں نام و نشان نہیں۔‘‘ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۵۱۱ جدید ایڈیشن) ۴۔اور پادری فتح مسیح کو جس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلّق حددرجہ ناپاک اتہام لگائے تھے۔مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔’’ہم کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ کریں گے مگر آئندہ کے لئے سمجھاتے ہیں کہ ایسی ناپاک باتوں سے باز آ جاؤ اور خدا سے ڈرو جس کی طرف پھرنا ہے اور حضرت مسیح کو بھی گالیاں مت دو یقیناًجو کچھ تم جناب مقدس نبویؐ کی نسبت بُرا کہو گے وہی تمہارے فرضی مسیح کو کہا جائے گا مگر ہم اُس سچّے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور اُن پر ایمان لایا۔‘‘ (نُور القرآن نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد۹ صفحہ ۳۹۵) ۵۔اور فرماتے ہیں:۔