انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 448

انجام آتھم — Page 292

روحانی خزائن جلد ا ۲۹۲ ضمیمه رساله انجام آنقم پورا کیا کہ اب کسی کو معارف قرآنی میں مقابلہ کی طاقت نہیں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مولوی اس ملک کے تمام مولویوں میں سے معارف قرآنی میں مجھے سے مقابلہ کرنا چاہے اور کسی سورۃ کی ایک تفسیر آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر واپس آجاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انہیں نسلیں ان کے بعد بھی انہیں لے صدیوں میں مرچکیں۔ مگر آپ اب تک تشریف نہلائے۔ خود تو وفات پاچکے مگر اس جھوٹی پیشگوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔ سوعیسائیوں کی یہ حماقت ہے کہ ایسی پیشگوئیوں پر تو ایمان لاویں۔ مگر آتھم کی پیشگوئی کی نسبت جو صاف اور صریح طور پر پوری ہو گئی اب تک انہیں شک ہو۔ سوچنا چاہئے کہ یہ وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی پندرہ سال پہلے خبر دی گئی ہے۔ اور جو اپنی شرط کے موافق اور اپنے آخری الہاموں کے موافق پوری ہو گئی۔ اس سے انکار کرنا کیا صریح خباثت ہے یا نہیں۔ کیا یہ انسان کا کام ہے کہ ایک مخفی امر کی چند سال پہلے خبر دے اور پھر شرط کے موافق نہ خلاف شرط پیشگوئی کو انجام تک پہنچاوے۔ یہ مردہ پرست لوگ کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں کہ سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے ۔ فتح مسیح کو یاد رکھنا چاہئے کہ آتھم تمام پادریوں کا منہ کالا کر کے قبر میں داخل ہو چکا ہے۔ اب یہ کا لک کا ٹیکہ عیسائیوں کی پیشانی سے کسی طرح اتر نہیں سکتا ۔ اگر وہ قسم کھا لیتا اور پھر ایک برس تک نہ مرتا تو عیسائیوں کو اس کی زندگی مفید ہوتی ۔ مگر اس نے نہ قسم کھائی نہ نائش کی نہ اپنے جھوٹے تین الزاموں کا ثبوت دیا۔ پس اس نے اپنی عملی کارروائیوں سے ثابت کر دیا کہ وہ ضرور ڈرتا رہا۔ پھر جب بیبا کی کی طرف رخ کیا تو حسب منشاء الہام الہی آخری اشتہار سے سات مہینے تک واصل جہنم ہو گیا۔ اور جیسا کہ خدا کے پاک الہام نے خبر دی تھی ویسا ہی ہوا۔ پس کیا ایسی پیشگوئی جو ایسی صراحت کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی جس کا تمام نقشہ خدائے عالم الغیب نے پندرہ برس پہلے اپنے پاک الہام کے ذریعہ سے ظاہر کر دیا تھا وہ جھوٹ ٹھہر سکتی ہے ۔ بلکہ وہی لعنتی فرقہ جھوٹا ہے جو ایسے کھلے کھلے نشان کی تکذیب کرتا ہے۔ بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اس پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ی اگر پادری اب بھی اپنی پالسی بدل دیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی ورنہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔