انجام آتھم — Page 67
۶۷ روحانی خزائن جلدا رسالہ دعوت قوم اور اس لائق ہوں گا کہ ہمیشہ کیلئے لعنت کے ساتھ ذکر کیا جاؤں اور اپنے مولی کے فیصلہ کو فیصلہ ناطق (۶۷) سمجھوں گا۔ اور میری پیروی کرنے والا یا مجھے اچھا اور صادق سمجھنے والا خدا کے قہر کے نیچے ہو گا۔ پس اس صورت میں میرا انجام نہایت ہی بد ہو گا جیسا کہ بدذات کا ذبوں کا انجام ہوتا ہے۔ لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفات بدنی سے بچالیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضب الہی کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہر یک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں مبتلا ہو گیا ۔ اور میری بد دعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہوگئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا۔ اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میں نے پہلے اس سے کبھی کلمہ گو کے حق میں بددعا نہیں کی اور صبر کرتارہا۔ مگر اس روز خدا سے فیصلہ چاہوں گا۔ اور اس کی عصمت اور عزت کا دامن پکڑوں گا کہ تاہم میں سے فریق ظالم اور در ونکو کو تباہ کر کے اس دین متین کو شریروں کے فتنہ سے بچاوے۔ میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔ اور اگر میں مر گیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہو جائے گا۔ میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس آدمی حاضر ہوں اس سے کم نہ ہوں اور جس قدر زیادہ ہوں میری خوشی اور مراد ہے کیونکہ بہتوں پر عذاب الہی کا محیط ہو جانا ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جو کسی پر مشتہر نہیں رہ سکتا۔ گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔ اوراے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین ۔ مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سیدھے فیصلہ کی طرف رخ ہی نہیں کیا ۔ تا اگر میں ان کے خیال میں کا ذب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔ ہاں بعض ان کے اپنی بد گو ہری کی