رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 597

رسالہ الوصیت — Page 328

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۴ رسالہ الوصیت لائی جائے تو ضروری ہوگا کہ وہ سارٹیفکٹ انجمن کو دکھلایا جائے اور انجمن کی ہدایت اور موقع نمائی سے وہ میت اس موقع میں دفن کی جائے جو انجمن نے اُس کے لئے تجویز کیا ہے۔ (۴) اس قبرستان میں بجز کسی خاص صورت کے جو انجمن تجویز کرے نابالغ بچے دفن نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بہشتی ہیں اور نہ اس قبرستان میں اس میت کا کوئی دوسرا عزیز دفن ہو گا جب تک وہ اپنے طور پر کل شرائط رسالہ الوصیت کو پورا نہ کرے۔ (۵) ہر ایک میت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں ہوئی ان کو بجز صندوق قادیان میں لا نا نا جائز ہوگا اور نیز ضروری ہوگا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں تا اگر انجمن کو اتفاقی موانع قبرستان کے متعلق پیش آگئے ہوں تو اُن کو دور کر کے اجازت دے۔ (1) اگر کوئی صاحب خدانخواستہ طاعون کی مرض سے فوت ہوں جنہوں نے رساله الوصية کے تمام شرائط پورے کر دیے ہوں اُن کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ دو برس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے طور پر دفن کئے جائیں اور دو برس کے بعد ایسے ۳۷ موسم میں لائے جائیں کہ اس فوت ہونے کے مقام اور قادیان میں طاعون نہ ہو ۔ (۷) یادر ہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائیدادمنقولہ اور غیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا۔ جائے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکام اسلام ہو اور تقوی طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا اور اُس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عبا د غصب کرنے والا نہ ہو۔ (۸) اگر کوئی صاحب دسویں حصہ جائداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو کہ مثلا کسی دریا میں غرق ہو کر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لا نا متعذر ہو تو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا