رسالہ الوصیت — Page 323
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۹ رسالہ الوصیت (۲) دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیت کرے جو اُس کی موت کے بعد دسواں حصہ اُس کے تمام ترکہ کا حسب ہدائت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہوگا۔ اور یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپر در ہے گی اور وہ با ہمی مشورہ سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گے۔ اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی دے گا اس لئے اُمید کی جاتی ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے ایسے مال بھی بہت اکٹھے ہو جائیں گے اور ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام اموران اموال سے انجام پذیر ہوں گے اور جب ایک گروہ جو متکفل اس کام کا ہے فوت ہو جائے گا تو وہ لوگ جو اُن کے جانشین ہوں گے اُن کا بھی یہی فرض ہوگا کہ اُن تمام خدمات کو حسب ہدایت سلسلہ احمدیہ بجا لاویں ان اموال میں سے اُن تیموں اور مسکینوں اور نومسلموں کا بھی حق ہوگا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمد یہ میں داخل ہیں۔ اور جائز ہوگا کہ اُن اموال کو بطور تجارت کے ترقی دی جائے ۔ یہ مت (۱۸)) خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس با تیں ہیں بلکہ یہ اُس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر د ا یسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو اُن کو بطور مد د خرچ اس میں سے دیا جائے۔