رسالہ الوصیت — Page 324
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۰ رسالہ الوصیت (۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہوسچا اور صاف مسلمان ہو۔ (۴) ہر ایک صالح جو اُس کی کوئی بھی جائداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔ هدایت (۱) ہر ایک صاحب جو حسب شرائط متذکرہ بالا کوئی وصیت کرنا چاہیں تو ان کی وصیت پر عملد رآمد اُن کی موت کے بعد ہوگا لیکن وصیت کو لکھ کر اس سلسلہ کے امین مفوض الخدمت کو سپرد کر دینا لازمی امر ہو گا اور ایسا ہی چھاپ کر شائع کرنا بھی کیونکہ موت کے وقت اکثر وصایا کا لکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور چونکہ آسمانی نشانوں اور بلاؤں کے دن قریب ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے وقت میں وصیت لکھنے والا بہت درجہ رکھتا ہے جو امن کی حالت میں وصیت لکھتا ہے اور اس وصیت کے لکھنے میں جس کا مال دائمی مدد دینے والا ہو گا اُس کو دائمی ثواب ہوگا اور خیرات جاریہ کے حکم میں ہوگا۔ (۱۹) (۲) ہر ایک صاحب جو کسی دوسری جگہ میں ہوں جو قادیاں سے دور اس ملک کے کسی اور حصہ میں ہوں اور وہ ان شرائط کے پابند ہوں جو درج ہو چکی ہیں تو اُن کے وارثوں کو چاہئے کہ ان کی موت کے بعد ایک صندوق میں ان کی میت کو رکھ کر قادیان میں پہنچا دیں اور اگر اس قبرستان کی تکمیل سے پہلے یعنی پل وغیرہ کی طیاری سے پہلے کوئی صاحب فوت ہو جائیں جو حسب شرائط اس قبرستان میں دفن ہوں گے تو چاہیے کہ بطور امانت صندوق میں رکھ کر اپنی جگہ دفن کئے جائیں پھر تمام لوازم کی طیاری کے بعد جو قبرستان کے متعلق ہیں