رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 597

رسالہ الوصیت — Page 322

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۸ رساله الوصیت اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کر چکے ہیں جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو جانتا ہے کہ وہ بکلی تیری محبت میں کھوئے گئے اور تیرے فرستادہ سے وفاداری اور پورے ادب اور انشراحی ایمان کے ساتھ محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں۔ امِين يَارَبَّ الْعَالَمِينَ اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ انزلَ فِيهَا كُلُّ رَحْمَةِ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اُتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اُس سے حصہ نہیں۔ اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدق اور کامل راستبازی کی وجہ سے اُن شرائط کے پابند ہوں سو وہ تین شرطیں ہیں ۔ اور سب کو بجالا نا ہوگا۔ (۱) اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی ہے لیکن اس احاطہ کی تکمیل کے لئے کسی قدر اور زمین خریدی جائے گی جس کی قیمت انداز اہزار روپیہ ہوگی اور اس کے خوشنما کرنے کے لئے کچھ درخت لگائے جائیں گے اور ایک کنواں لگا یا جائے گا اور اس قبرستان سے شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گزرگاہ ہے اس لئے وہاں ایک پل طتیار کیا جائے گا اور ان متفرق مصارف کے لئے دو ہزار روپیہ درکار ہوگا سوگل یہ تین ہزار روپیہ ہوا جو اس تمام کام کی تکمیل کے لئے خرچ ہو گا ۔ سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔ اور یہ چندہ محض اُنہیں لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔ بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہیے لیکن اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا ۔ اس صورت میں ایک انجمن چاہیے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتاً جمع ہوتا رہے گا ۔ اعلاء کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔