اَلھُدٰی — Page 295
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۹۱ الهدى صرتهم۔ وسرت مسرّتهم۔ وبُدّل بالخطر خطرتهم وضاعت لامرأة خوشی جاتی رہی اور عزت تباہ ہوگئی اور عورت کے پیچھے امیری خاک میں مل گئی۔ ۔إمرتهم۔ وظهر قتر الفقر بعد ما أودع سر الغنى أسرتهم۔ وحسر اور دولت اور ثروت کے بعد اب نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں اور مارے بصرهم من الحزن ودامت حسرتهم۔ ومع ذالك لا يتركون غم کے آنکھیں خراب ہوگئی ہیں اور حسرت بڑھ گئی ہے۔ اس پر بھی وہ خود | الشهوات والشهوات تتركهم بالشيب والأمراض والآفات ولا خواہشوں کو نہیں چھوڑتے ہاں خواہشیں انہیں بیماریوں اور آفتوں کے وقت چھوڑ جاتی ہیں۔ يتقون شططا وغلوا فى استيفاء الحظوظ كالفجرة۔ حتى ينجر الأمر اور جب بدکاروں کی طرح حفظ نفس کو پورا کرنے پر آتے ہیں تو کوئی حد بست رہنے نہیں دیتے۔ إلى تلاشى الصحة واختلال البنية وتزهق أنفسهم وهم يتمنون أن آخر کار بدن کی طاقتوں اور صحت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اور یوں صحت و تعود أيام الصحة والقوة۔ كأنهم وقفوا أبدانهم وقواهم على البغايا قوت کے دوبارہ ملنے کی آرزو میں جان نکل جاتی ہے۔ گویا ان لوگوں نے اپنے بدن اور و آثروا حبهن على عصمة النفس والعرض والملة۔ إن هؤلاء قوم (٢٨) قوت کو بد کار عورتوں پر وقف کر رکھا ہے اور ان کی محبت کو جان اور آبرو اور مال اور ملت صاروا للشيطان كفىء ۔ وليسوا من الخير في شيء ۔ ترى طبائعهم کے بچاؤ پر مقدم کر لیا ہے۔ یہ لوگ شیطان کے ظل ہیں۔ اور ان کے وجود میں کوئی خیر كأرض ذات كسور غير المسحاء ۔ متلوّنة في الصباح نہیں۔ ان کی طبیعتوں کو تو دیکھتا ہے جیسی زمین نشیب فراز والی ناہموار صبح اور شام والمساء ۔ وترى قلوبهم مظلمة من الكبر والخيلاء ۔ نئے نئے رنگ نکالتی ہیں اور گھمنڈ اور خود بینی سے ان کے دل سیاہ ہو گئے ہیں۔