اَلھُدٰی — Page 282
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۸ الهدى وأما خيل الفرقان فيجوبون كل دائرة العمران۔ وهو كتاب مگر قرآن کریم کے سواروں کا یہ حال ہے کہ وہ آبادی کے ہر دائرہ کو قطع کرتے ۳۵ تجرى تحتـه بـحــار الـعـرفـان۔ ولا يطير فوقه طير التبيان ۔ و ہیں۔ قرآن کریم ایک کتاب ہے جس کے نیچے عرفان کے دریا بہتے ہیں۔ اور کسی ما تكلم أحد إلا اذان من خزائنه۔ وأخرج من بعض دفائنه۔ وأرى گویائی کا پرندہ اس سے فوق اُڑ نہیں سکتا۔ اور ہر پونجی والا اسی کے خزانوں اور كل متكلّم صفر اليدين من غير التطوّق بهذا الدين۔ و دفینوں سے کچھ لیتا ہے اور میرے نزدیک ہر متکلم اس قرضہ میں مبتلا ہونے کے كل غريم يجد في التقاضي۔ ويلج في الاقتياد إلى القاضي۔ بغیر محض تہی دست ہے ۔ اور قرضدار سے سخت تقاضا کیا جاتا اور سخت کوشش کی وأما القرآن فيتصدق على أهل الاملاق وينزع عن جاتی ہے کہ قاضی تک پہنچا کر اس سے روپیہ وصول کیا جائے ۔ مگر قرآن کریم الارهاق۔ بل يُعطى سبائك الخِلاص لأهل الإخلاص۔ تنگ دستوں کو صدقات دیتا اور ساری تنگیاں دور کرتا بلکہ اخلاص والوں کو سونے ولا يمن على الغرماء بالإنظار ۔ بل يُرغبهم في احتجان کی ڈلیاں دیتا ہے۔ اور اپنے قرضداروں کو مہلت دینے کا احسان نہیں جتاتا النضار، ولا يأخذ سارقا۔ إن كان فارقًا ۔ وإنّا نحن بلکہ ان کو سونا اکٹھے کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور کسی چور کو اگر وہ ڈرنے والا شخص تلاميذ الفرقان۔ وأترعُنَا من بحره بعد ما صرنا كالكيزان۔ ہی ہو نہیں پکڑتا ۔ اور ہم تو اول کوزے بنے پھر قرآن کے دریا سے لبالب ہوئے۔ الحاشية اعـنـى مـن اقتبس من القرآن أيةً بصحة النية۔ خائفًا من الحضرة فلا اثم عليه عند عالم النيات ذى الجود والمنّة۔ منه