اَلھُدٰی — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۳ الهدى إنهم قوم زكوا دثارهم وشعارهم۔ وخرجوا من أنفسهم۔ وزايلوا لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اندر باہر دونوں کو پاک کیا ہوتا ہے اور اپنے نفس سے نکل چکے اور وجارهم۔ ورحموا من جار عليهم وَجارَهم۔ وأطفأوا نار اپنے نشیمن کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بیدادگر اور ہمسائے سے پیار کرتے ہیں اور انہوں النفس وكملوا ۔أنوارهم وأمّا نفوس أهـل الـدنـيـا فتشـابـه | نے نفسوں کی آگ بجھادی ہوئی ہوتی اور اپنے نوروں کو کامل کیا ہوا ہوتا ہے۔ مگر دنیا داروں يوما جوه ۔مز مهر ودجنه مُكفهر وتراهم عارى الجلدة کے نفس اس دن کی مانند ہوتے ہیں جس کی فضا میں خطر ناک سردی اور اس کے بادل سخت گھنے من حلل الاتقاء ۔ وبـادي الـجـردة من غلبة الفحشاء ۔ قد اور تاریک ہوں۔ یہ لوگ تقویٰ کے لباسوں سے برہنہ اور بدکاریوں کے غلبہ کے سبب سے اعتموا بـريـطة الاستكبار، واستغفروا بفويـطة الخيلاء محض ننگے ہوتے ہیں۔ انہوں نے گھمنڈ اور خود بینی کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ سو ایسے حال والفخار۔ فكيف يؤيّدون من ربّ العالمين بل وراء هم (٣٠) میں خدا کی طرف سے انہیں کیونکر تائید ملے۔ ان کے پیچھے ان کے بال بچے اور عیال پڑے ضفف و کرش يدعونهم إلى الشياطين ۔ يبكون أنهم أهلكوا رہتے ہیں جو انہیں شیطان کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ روتے ہیں کہ فقر فاقہ اور افلاس سے من الشظف وصفر الراحة وحصهم جنف وقشف فما بقى ہلاک ہو گئے اور لاغری اور تنگ گذرانی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ذرہ بھر بھی آرام اور معهم ذرة من الراحة۔ ثم يقولون نحن سُراة أندية الأدب۔ چین انہیں نہیں۔ پھر بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم ادب کی انجمنوں کے سردار اور زبان عرب کے وحماة لسن العرب كلا بل ركدت ريحهم وحبت مصابيحهم۔ حامی کار ہیں ۔ جھوٹے ہیں بلکہ ان کی ہوا ٹھہر گئی ہوئی ہے اور ان کے چراغ گل ہو چکے ہیں