اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 822

اَلھُدٰی — Page 270

۲۶۶ الهدى روحانی خزائن جلد ۱۸ لا للاحتقار وكسر الشان۔ ونحا به منحى نصرة الدين۔ لا لظى نہ حقارت اور کسرشان کے ارادہ سے اور اس سے اس کا قصد دین کی نصرت التحقير والتوهين وهل هو في ذالك إلا بمنزلة حماة ہو تحقیر اور توہین کا اشتعال نہ ہو۔ ایسا شخص تو اسلام کا حامی اور کلام اللہ کی الإسلام۔ والداعين إلى عزة كلام الله العلام الذى عزت کی طرف جو سب کلاموں کا بادشاہ ہے بلانے والا ہے اور خدا ہر شخص (۲۲) هو ملك الكلام والله يعلم السر وما أخفى ولكل امرء کے باطن اور راز کو جانتا ہے اور جس کی جو نیت ہو گی وہی پھل اسے ملے گا۔ لیکن مانوى۔ ولكنى مُعتذر كمثل اعتذاره۔ فإن الفتن قد انتشرت میں بھی ویسا ہی عذر کرتا ہوں جیسا اس نے کیا اس لئے کہ اس کے اقوال اور اخبار سے فتنے من أقواله وأخباره، فوجب أن اشمر عن ذراعى لشاره ولم پھیل گئے ہیں۔ سوضرور ہوا کہ عوض لینے کو آستینیں چڑھالوں۔ اور اب مجھے اس کے سوا چارہ یکن لى بد من أن أفضّ ختم سرّه۔ والله يعلم حقيقة نيته وكيفية نہیں کہ اس کے راز کی مُہر توڑ دوں اور خدا جانتا ہے اس کی نیت کی حقیقت کو اور اس کی بريته وبره۔ فان كان نوى الخير فيما قال فسيعتذر ولا يبتغى نیکی اور بریت کی کیفیت کو ۔ پس اگر اپنی باتوں میں اُس نے نیکی کی نیت کی ہوگی تو ضرور النضال۔ وإن كان قصد التوهين والاحتقار۔ فسيقضى الله بيني وبينه عذر خواہی کرے گا اور جنگ و مقابلہ نہ چاہے گا ۔ اور اگر تو مین و تحقیر کا ارادہ کیا ہے ومن ظلم فقد بار۔ وإني سأرسل كتابا إلى مدير المنار ليُفكر فيه تو خدا اس میں اور مجھ میں جلد فیصلہ کرے گا اور ظالم ہلاک ہو گا ۔ اور منار کے ایڈیٹر کو حق الافكار۔ فإمّا اكفهرار بعد وإما اعتذار۔ وإنما هو کتاب بھیجوں گا یا تو وہ پھر طیش اور اشتعال میں آیا یا عذر معذرت کر دی اور اظہار حق