اَلھُدٰی — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۰ الهدى المراعي المستعذبة۔ لا يعلمون لطف الأساجيع المستملحة۔ ولا اور سرسبز مرغزاروں تک ان کی رسائی کہاں ۔ یہ لوگ نمکین سمجھوں کا لطف اور آراستہ کلموں کی الطافة الكلم الموشحة۔ يقولون نحن العلماء ۔ ولا يشعرون ما العلم لطافت کو کیا جانیں ۔ منہ سے کہتے ہیں کہ ہم علماء ہیں مگر علم اور زیر کی ان کے نزدیک نہیں آئی ۔ وما الـدهـاء ۔ وما كان لي حاجة إلى ذكر هذه القصة۔ وإظهار اور اصل میں مجھے اس قصہ کے بیان کرنے اور اپنے رنج کے اظہار کی کوئی ضرورت نہ هذه الغصة۔ لما لم يكن مدير المنار وحده بدعا من تھی اس لئے کہ منار کا ایڈیٹر ہی تو کوئی اکیلا نیا بد گونہیں بلکہ تمام دشمن ایسی ہی تو ہین کے المزدرين والمحقرين۔ بل تعوّد العدا كلهم بالتوهين۔ عادی ہو رہے ہیں اور ان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت یافتوں کی راہ سے روک کر ١٢) ليصدوا الناس عن سبيل المهتدين۔ ويُلحقوهم بالمعتدين۔ حد سے نکل جانے والوں میں شامل کر دیں ۔ اس قسم کے بہت سے لوگ ان جھگڑوں وترى كثيرا منهم يوجدون في هذه البلاد۔ وتعرفهم بقتر میں ہیں اور اُن کا نشان یہ ہے کہ دشمنی کے مادہ کے جوش سے اُن کے مُنہ سیاہ اور مسخ رهقت وجوههم من ثور مواد العناد۔ يذكرونني كمثل ما ہوئے ہوئے ہیں اس سے سے تم ان کو پہچان لوگے۔ وہ لوگ میری ایسی ہی تحقیر تشنیع کرتے ذكر۔ ويزدرونـنـی كـمـثـل مـا احتـقـر ۔ فلا ألتفت إليهم ولا إلى ہیں جیسی منارنے کی۔ مگر میں ان کی باتوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا اور یہ کہتا ہوں کہ أقوالهم۔ وأعرض عنهم وأقول جهّال يصرخون بما ضُرِبَ على جاہل ہیں ۔ سر پر کاری ضرب لگی ہے چلائیں نہیں تو کیا کریں اور جب انہیں گمراہی پر اتنا قذالهم۔ وأي خير يُرجَى منهم مع إصرارهم على ضلالهم۔ اصرار ہے تو ان سے نیکی کی امید کیا کی جائے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ان شریروں کی