اَلھُدٰی — Page 262
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۸ الهدى وكيف قصد شرا لا يزول سواده بالمعاذير ۔ وكيف يمكن الجهر | اور اس شخص نے کیونکر شر کا قصد کیا جس کا سیاہ داغ کسی عذر و بہانہ سے مٹ نہیں سکتا اور کیونکر بالسوء من مثل هذا الفاضل التحرير ولما تحقق أنه منك تقلّدتُ ممکن کہ ایسا عالم لائق آدمی کھلی کھلی بری باتیں منہ سے نکالے اور جب خوب ثابت ہوا کہ یہ أسلحتى للجهاد۔ وقلتُ مکانک یا ابن العناد۔ فدونى شرط الحداد سب تمہاری کرتوت ہے تو میں نے بھی جنگ کے لئے ساز و سامان درست کر لیا اور کہا کہ اپنی وخرط القتاد۔ وعلمتُ أنك ما تكلّمتَ بهذه الكلمات ۔ إلا حسدًا جگہ پر کھڑارہ اے سفلہ دشمن کہ میرے مقابل آنا تلواروں سے کٹ جانا اور کانٹوں میں پھنس من عند نفسك لا لإظهار الواقعات۔ فابتدرتُ قصدك لئلا جانا ہے اور مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ باتیں تم نے حسد سے کی تھیں واقعات کے اظہار کے لئے يُصدّق الناسُ حسدَك۔ فإن علماء ديارنا هذه يستقرون حيلة نہیں کہیں اس لئے میں تمہاری طرف متوجہ ہوا کہ کہیں تمہاری ان شرارتوں سے لوگ دھوکا نہ کھا (١٣) للإزراء ۔ فيستفزهم ويُجرء هم على كلما قلت للازدراء ۔ ولولا جائیں۔ اس لئے کہ ہمارے ملک کے علماء تو میری تحقیر کے لئے بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں سو خوف فسادهم لســكـتُ وما تفوّهت في هذا الأمر وما جو کچھ تو نے میری تحقیر میں کہا ہے اس سے ان کی جرات اور بھی بڑھ جائے گی۔ اور اگر فساد کا تجلّدت ولكن الآن أخافُ على الناس۔ وأخشى خوف نہ ہوتا تو میں اس معاملہ میں بالکل خاموش رہتا۔ لیکن اب لوگوں کے بگڑ جانے اور وسوسة الخنّاس ۔ وإن بعض الشهادات أبلغ في الضرب من شیطان کی وسوسہ اندازی کا ڈر ہے اور یہ پختہ بات ہے کہ بعض شہادتیں ضرب میں تلوار سے المرهفات۔ فأخاف أن يتجدّد الاشتعال من كلمات المنار۔ و بھی زیادہ سخت ہوتی ہیں۔ اب مجھے خوف ہے کہ ”منار کی باتوں سے اشتعال بڑھ جائے اور