اَلھُدٰی — Page 260
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۶ الهدى الستُ في هذا القول كالمتندّم۔ فإن الفضل للمتقدّم۔ وكنتُ أتوقع | میں اس بات میں پشیمان نہیں اس لئے کہ فضیلت پہل کرنے والے کو ہے۔ اور مجھے گمان أن يتسرى بمؤاخاتک همی ويرفض بجندك كتيبة غمی۔ تھا کہ تمہاری دوستی سے میرا غم دور ہو جائے گا اور تمہارے لشکر کی مدد سے میرے فالأسف كل الأسف أن الفراسة أخطأت۔ والروية ما تحققت۔ اندوه و غم کا لشکر شکست کھا جائے گا مگر افسوس کہ فراست نے خطا کی اور دانش درست نہ اتری ووجدت بالمعنى المنعكس رياك۔ فهذه نموذج بعض مزایاک۔ اور تمہارا سارا معاملہ بالکل الٹا نظر آیا۔ یہ تو آپ کی فضیلتوں کا تھوڑا سا نمونہ ہے۔ اس سے و علمتُ به أن تلك الأرض ارض لا يُفارقها اللظى وتفور منها إلى مجھے پتہ مل گیا کہ مصر کی سرزمین سے آتش اشتعال کبھی الگ نہیں ہوئی۔ اور اب تک اُس هذا الوقت نار الكبر والعُلَى۔ فعفى الله عن موسى لم تركها وما سے کبر و تعلی کی آگ جوش زن ہے۔ خدا موسیٰ پر رحم کرے کیوں اس نے اسے چھوڑ دیا اور عفي۔ فـحـاصـل الـكـلام إنك زعمت أن كتابي مملو من السهو | اس کا نام و نشان نہ مٹا دیا۔ غرض تمہارا دعویٰ ہے کہ میری کتاب سہو و خطا والخطأ ۔ وما أتيتَ بدليل من النحويين أو الأدباء ۔ فأشكو إلى سے بھری ہوئی ہے اور نحویوں اور ادیبوں سے کوئی دلیل تم اس پر نہیں لائے۔ (۱۳) الله من جورك هذا والافتراء ۔ فإنك شـمـسـت لـي مـن اب میں تمہارے جور اور افترا سے خدا کے پاس فریاد کرتا ہوں اس لئے کہ تم نے غير سبب ومن غير أسباب البغض والشحناء ۔ أو جعلت معيار | بے سبب اور بے کسی پہلے بغض و عداوت کی وجہ کے یہ ظلم زیادتی کی۔ کیا تم اپنی الصحة لسانك الذى تكلّم به عشیرتک من البنات اس بولی کو صحت کا معیار ٹھہراتے ہو جس سے تم اپنی بیٹیوں اور جوروؤں سے