اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 822

اَلھُدٰی — Page 257

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۳ الهدى العلم والمثمرين۔ وزعمت أن فيهم قوما يُعدّون من المحققين۔ ومن ہیں وہ مراد ضرور پوری ہوگی اور میں سمجھا کہ ان میں محقق اور اعلیٰ درجہ کے ادیب ہیں اور میں الأدباء المفصحين۔ وخلتُ أنهم من المتدبرين وليسوا من نے خیال کیا کہ وہ سوچنے والے ہیں اور شتاب کار اور بیداد گر نہیں ہیں۔ اس گمان کی بنا پر المستعجلين والجائرين۔ فقادني هذا الظنّ إلى أن أرسل إلى مدير ) میں نے المنار کے ایڈیٹر اور اس کے ساتھیوں کو اپنی کتاب اعجاز امسیح بھیجی ۔ اور غرض یہ تھی کہ المنار“ ورفـقتـه كـتـابـي الإعـجـاز“۔ ليُقرّظوا ويكتبوا عليه ما لاق اس پر مناسب اور حسب موقعہ تقریظات ھیں۔ اور میں نے شام اور روم اور حرمین کے علماء کو چھوڑ وجاز۔ وآثرتهم على علماء الحرمين والشام والروم۔ لعلى أسرو بهم کر انہیں چنا کہ شاید انہی کی وجہ سے میرے فکر اور غم دور ہو جائیں اور دکھ درد کی آگ انہی سے غواشي الأفكار والهموم۔ ولأطفاً بهم ما بي من جمرة الأذى۔ بجھ جائے اور یہی لوگ نیکی اور تقویٰ پر میرے مددگار ہو جائیں۔ پھر جب صاحب منار کو میری وليـعـيـنـوني على البر والتقوى۔ ثم لما بلغ كتابي صاحب المنار۔ وبلغه | کتاب پہنچی اور اس کے ساتھ اسے کچھ خط استفسار کے لئے ملے اس نے اس کلام کے پھلوں معه بعض المكاتيب للاستفسار ۔ ما اجتنى ثمرة من ثمار ذالك سے ایک پھل بھی نہ لیا اور اس کے عظیم الشان معارف میں سے کسی معرفت سے بھی نفع الكلام وما انتفع بمعرفة من معارفه العظام۔ ومال إلى الكلم والإيذاء حاصل نہ کیا اور جیسے کہ اکڑ باز حاسدوں کی عادت ہوا کرتی ہے قلم سے زخمی کرنے بالأقلام كما هو عادة الحاسدين والمستكبرين من الأنام۔ وطفق يؤذى | اور ایذا دینے کی طرف جھک پڑا اور تحقیر کرنے لگا اور ایذا دینے لگا اور اس تحقیر ويُزرى غير وان فى الازراء والالتطام۔ ولا لا و إلى الكرم والإكرام۔ اور جوش دکھلانے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کی اور جیسے کہ بزرگوں کی عادت ہے کرم و اکرام