اَلھُدٰی — Page 256
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۲ الهدى الله بأعينهم ثم يُنكرون۔ وما كنتُ متفردًا في هذا بل ما أتى الناس نشانوں کو دیکھتے ہیں پھر انکار کرتے ہیں۔ ان معاملوں میں میں اکیلا نہیں بلکہ کوئی ایسا رسول من رسول إلا كـانـوا بـه يستهزء ون۔ وهلم جرا إلى ما تشاهدون۔ نہیں آیا جس سے لوگوں نے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ۔ وإني رأيتُ دهرًا ظلم هؤلاء الأشرار في هذه الديار و آنست اور میں مدتوں سے ان شریروں کا ظلم اس ملک میں سہتا ہوں۔ اور ان کی زیادتی انکار اور تحقیر ) غلوهم فى الانكار والاحتقار وجرّبتُ أن لهم قلوبا سيرتها الله میں دیکھتا ہوں ۔ اور میں تجربہ کر چکا ہوں کہ ان کے دلوں کی سیرت خصومت اور تکبر اور لڑائی والاحـرنـجـام۔ وفطرةً شيمتها التكذيب والاتهام ۔ فلما يئست منهم ہے اور ان کی فطرتوں کی عادت تکذیب اور اتہام ہے۔ غرض جب میں ان سے نا امید ہوا تب انصرف قلبي إلى بلاد أخرى لعلّى أرى الأنصار أو أجد فيهم قلبًا میرا دل اور ملکوں کی طرف متوجہ ہوا کہ کہیں مددگار مجھے مل جائیں اور شاید کوئی تقوی شعار دل أتقى فذكرت علماء الشام۔ ومن بها من الكرام۔ وأردت أن أرسل میرے ہاتھ آجائے۔ اتنے میں شام کے علماء اور بزرگ مجھے یاد آ گئے اور ارادہ کیا کہ ان کی إليهم للاستشهاد ۔ ليُجيبوا بالصدق والسداد۔ وينقلوا الحق من طرف گواہی لینے کے لئے خط بھیجوں اس لئے کہ وہ راستی اور سچائی سے جواب دیں اور حق کو الوهاد إلى النجاد ۔ فأخبرتُ أن المناظرات فيهم ممنوعة والقوانين پستی کے گڑھے سے نکال کر اوج پر پہنچا دیں۔ سو مجھے پتہ لگا کہ ان کو دینی مناظرات کی لمنعها موضوعة۔ فذهب وهلى بعد ذالك أن المراد يحصل | اجازت نہیں اور وہ ان مباحثات سے قانو نا روک دیے گئے ہیں۔ پھر میرے دل میں آیا کہ مصر من أرض مصر وأهلها المتفرّسين۔ والـمـخـصـبـيـن بـعـهـاد کے ملک سے اور اس کے دانشمند لوگوں سے جو علوم کی بارش سے سرسبز اور برخوردار ہور ہے