اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 52

روحانی خزائن جلد ۴ ۵۲ مباحثہ لدھیانہ (۵۰) اس مضمون کے اقوال بکثرت موجود ہیں جن کی نقل سے تطویل ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں آپ کا یہ کہنا کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ یہ محض ایک عامیانہ بات ہے، عامی لوگ جن کی تعداد مردم شماری کے کا غذات سے آپ نے بتائی ہے بخاری کو نہ مانتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ہے عالم حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے انکار نہیں کرتے ۔ آپ اس دعوے میں بچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث صحیح بخاری کو ان پر اطلاع پا کر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ایک عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم صاحب کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی ۔ مہربان من امام اعظم صاحب ڈیڑھ سوسنہ ہجرت میں انتقال کر کے داخل فردوس ہوئے اور صحیح بخاری دوسوسنہ کے بعد تالیف ہوئی حملا صحیح بخاری امام صاحب کے وقت میں تالیف ہوتی تو امام اعظم صاحب اس کو آنکھ پر رکھ لیتے۔ امام شعرانی میزان کبری کے صفحہ ۷۲۷ وغیرہ میں فرماتے ہیں۔ اعتقادنا و اعتقاد كل منصف في الامام ابي حنيفه رضى الله عنه بقرينة ما حاشیه مرزا صاحب غیر ضروری طویل بیانات اور نقل آیات سے مضمون کو بڑھاتے ہیں حالانکہ خود بے جا اور بےمحل صحیحین خصوصا صحیح بخاری کی مدح پر خامہ فرسائی کی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اپنے عوام ہم خیالوں کو دھوکا دینے کی راہ نکالیں اور انہیں اشتعال دلائیں کہ مرزا صاحب صحیح بخاری کو نہیں مانتے ۔ سنئے مولوی صاحب! آپ نے خود صحیحین کی صحیح قرار دادہ حدیث پر بلحاظ صحت ظن غالب کا لفظ اطلاق کیا ہے اور بس ۔ حضرت مرزا صاحب بھی اسی کے قائل ہیں چنانچہ مضمون نمبر 4 میں جو آخری اور قطعی مضمون ہے فرماتے ہیں ۔ اور ہمارا مذ ہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صیح سمجھتے ہیں ۔ اب فرمائیے نزاع کس بات کی ہے؟ فیصلہ شد۔ مولوی صاحب شدت بغض کی وجہ سے وهـو عليهم عمی کا مصداق ہورہے ہیں ! افسوس آنکھیں کھلی ہیں پر دیکھتے نہیں ۔ کہاں مرزا صاحب نے بخاری کو امام صاحب کا معاصر یا اُن سے مقدم بیان کیا ہے۔ جس سے مستنبط ہو سکتا ہے کہ ان کی جامع امام صاحب کے وقت موجود تھی ! ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حدیثیں جو مجموعی طور پر جامع بخاری میں مدون میں متفرق طور پر امام صاحب کے عصر میں اور ان سے قبل بھی موجود تھیں اور یہ کہنا صحیح ہے۔ کوئی منصف نا منصف مولوی صاحب سے پوچھے ( ہمیں امید ہے کہ پوچھنے والے ضرور پوچھیں گے کیونکہ مولوی صاحب کی ہمہ دانی کا پردہ تو اب اور اس میدان میں پھٹا ہے۔ آگے تو اس گلستان والے بدرقہ کی طرح گھر کی چاردیوار میں پہلوان بنے بیٹھے تھے ) کہ اتنی دراز نفسی آپ کی کسی مصرف کی ہے؟ جب اصل بنا ہی خام ہے تو اس پر جو متفرع ہوا سب ہی نکما اور فضول ٹھہرا۔ یہ نکتہ چینی مرزا صاحب کے کس بیان کے متعلق ہے؟ فافھم ۔ ایڈیٹر۔