اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 50
روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ شک سے بلفظ مومن اور مسلم روایت نہ کیا جاتا۔ اس مسئلہ کی تحقیق کتب اصول فقہ واصول حدیث میں ہے۔ اور ہماری تالیفات اشاعۃ السنہ وغیرہ میں آپ ان کو ملاحظہ فرماویں۔ آپ شروط صحت کی تحقیق و ثبوت کو شکی فرماتے ہیں و بناءً علیہ صرف اصول روایت کو مثبت صحت قرار نہیں دیتے یہ امر بھی فن حدیث سے آپ کی نا واقعی کا مثبت ہے۔ مہربان من شروط کی تحقیق و ثبوت میں محدثین نے ایسی تحقیق کی ہے کہ اس سے علم طمانیت حاصل ہو جاتا ہے۔ محدثین نے ہر ایک راوی کے تحقیق حال میں کہ وہ کب پیدا ہوا کہاں کہاں سے سفر کر کے اس نے حدیث حاصل کی کس کس سے حدیث سنی کس کس نے اس سے حدیث سنی کون سی حدیث میں وہ منفر در باکس حدیث میں اس سے وہم ہو گیا ہے اور کسی شخص نے اس کی حدیث کو بلحاظ تحقق شروط صحیح کہا۔ کس نے ضعیف قرار دیا ہے وغیرہ وغیرہ دفتروں کے دفتر لکھ دیئے ہیں وبناء علیہ ہر ایک حدیث کی نسبت جس کو ائمہ محدثین خصوصاً امامین ہما مین بخاری و مسلم نے صحیح قرار دیا ہے اور عام اہل اسلام نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا ہے ظن غالب صحت حاصل ہو جاتا ہے بلکہ ابن صلاح وغیرہ ائمہ حدیث کے نزدیک شیخین کی اتفاقی حدیث جس پر کسی نے کچھ کلام نہیں کیا مفید یقین ہے۔ آپ یقین کو مانیں خواہ نہ مانیں قطن غالب سے تو انکار نہیں کر سکتے کیونکہ اپنی تحریرات میں اس کا اقرار کر چکے ہیں۔ اس پر جو آپ نے باستدلال آیت وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا اعتراض کیا ہے وہ بھی آپ کے اصول دین سے نا واقعی پر مبنی ہے۔ مہربان من ظن غالب عملیات میں لائق اعتبار ہے اور قرآنِ مجید کی آیت مذکورہ اور دیگر آیات میں جہاں ظن کے اتباع سے ممانعت وارد ہے اس سے اعتقاد کے متعلق ظن مراد ہے ۔ کیا آپ کو یہ مسائل معلوم نہیں یا کسی عالم سے نہیں سنے کہ اگر نماز میں بھول ہو جاوے کہ رکعت ایک پڑھی ہے یا دو تو نمازی تحری کرے اور جو ظن غالب ہو اس پر عمل کرے یا اگر وضو کے ٹوٹ جانے میں شک واقع ہو تو ظن غالب پر عمل کرے۔ اسی وجہ سے جملہ علماء اسلام کا حنفی ہیں یا شافعی اہلحدیث ہیں خواہ اہل فقہ اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے حالانکہ خبر واحد ہر ایک کے نزدیک موجب ظن ہے نہ مثبت یقین ۔ اسی وجہ سے خاص کر صحیحین کی نسبت علماء اسلام نے جن میں مقلد و مجتہد فقیہ ومحدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی احادیث واجب العمل ہیں اور امام ابن صلاح نے فرمایا کہ ان کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں لہذا ان کے مضمون پر اعتقاد بھی واجب ہے اور ا کا بر ائمہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی قسم کھالے کہ جو احادیث صحیحین میں ہیں وہ صحیح نہ ہوں تو اس کی عورت پر طلاق ہے تو اس کی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی اور وہ اس قسم میں جھوٹا نہیں ہوتا امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے اتفق العلماء رحمهم الله تعالى على ان اصح الكتب بعد القرآن العزيز الصحيحان البخاری و مسلم و تلقتهم الامت بالقبول و كتاب البخارى اصحهما صحيحا و اكثرهما فوائد و معارف النجم: ٢٩