اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 49
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۹ مباحثہ لدھیانہ کہ وہ حکم عام لوگوں کے عمل میں آجاوے اس کی مثال ہم احکام شرع سے صرف ان اتفاقی امور کو ٹھہرا سکتے ۴۷ ہے ہیں جو جملہ اہل اسلام میں علی سبیل الاشتراک عمل میں آگئے ہیں۔ جیسے نماز یا حج یا صوم ۔ کہ اتفاقی ارکان ہیں۔ بلالحاظ ان کے قیودات و خصوصیات کے کہ نماز رفع یدین والی ہو یا بلا رفع اور اس میں ہاتھ سینہ پر باندھے جاویں یا زیر ناف یا ارسال یدین عمل میں آوے و علی ھذا القیاس اور اگر ان کے قیود و خصوصیات کا لحاظ کیا جاوے تو ان پر تعامل کا ادعا محض غلط ہے اور کوئی فریق یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ ہمارا طریق تعامل عام اہل اسلام سے ثابت ہے۔ ان امور پر تعامل عام ہوتا تو ان میں اختلاف ہرگز واقع نہ ہوتا جو آپ کے نزدیک وضع و عدم صحت کی دلیل ہے۔ لہذا آپ کا یہ کہنا کہ احادیث کا حصہ متعلق عبادات و معاملات تعامل سے ثابت ہے محض نا واقعی پر مبنی ہے۔ اور اگر تعامل سے آپ کی مراد خاص خاص فرقوں یا شہروں یا اشخاص کا تعامل ہے اور اس تعامل کو قلمی صحت کی دلیل سمجھتے ہیں تو آپ پر سخت مصیبت پڑے گی کیونکہ یہ تعامل خاص ہر ایک قوم و شہر و مذ ہب کا باہم مختلف ہے یہ موجب یقین ہو تو چاہئے کہ جملہ احادیث مختلفہ جن پر یہ تعامل ہائے خاص خاص پائے جاتے ہیں یقینی اور صحیح ہیوں اور یہ امر نہ صرف آپ کے مذہب کے بالکل مخالف ہے بلکہ حق اور نفس الامر کے بھی مخالف ہے۔ اصول تصحیح روایت محققین اہل اسلام کے نزدیک یہ نہیں جو آپ نے قرار دیا ہے کہ وہ تو افق قرآن ہے یا تعامل امت بلکہ وہ اصول شروط صحت ہیں جن کا مدار چار امور سے عدل کے ضبط عدم کندوز و عدم علت ہے۔ ان شروط میں جو آپ نے سلامت فہم راوی کو داخل کیا ہے یہ بھی آپ کی فنون حدیث سے نا واقعی پر دلیل ہے۔ فہم معنے ہر ایک حدیث کی روایت کیلئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں ہم معنی حکایت ہو اور جس حدیث کو راوی بعینہ الفاظ سے نقل کر دے اس میں راوی کے فہم معانی کو کوئی شرط نہیں ٹھہرا تا۔ کتب اصول حدیث شرح نخبہ و غیرہ ملاحظہ ہوں ۔ اس کے جواب میں شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سب ہی بالمعنے روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے (جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا ہے چنانچہ عنقریب ثابت ہوگا ) کہا ہے تو اس پر آپ کو اہل حدیث جوفن حدیث سے واقف ہیں محض نا واقف کہیں گے۔ سلف نے احادیث نبویہ کو بعینہ الفاظ سے روایت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں شک راوی موجود ہے اگر صحابہ وغیر و رواۃ سلف میں حکایت بالمعنے کا رواج ہوتا تو دو ہم معنے لفظوں کو جیسے مومن" و "مسلم"