اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 48

۴۸ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ (۴۶) کرے۔ آپ نے میرے اصول کی نسبت تسلیم یا عدم تسلیم تو قطعی طور پر ظاہر نہیں کی مگر ان اصول کا خلاف ثابت کرنے پر مستعد ہو گئے سو بھی ایسے طور پر کہ اصل سوال سے غیر متعلق اور فضول باتوں میں خامہ فرسائی شروع کر دی اس صورت میں مجھ پر لازم نہ تھا کہ میں آپ کی کسی بات کا جواب دینا یا اس پر کوئی سوال کرتا مگر اسی غرض سے اب تک آپ کے جوابات کے متعلق خدشے وسوالات کرتا رہا ہوں کہ آپ کی کلام سے وہ نتائج پیدا ہوں جن کو میں عام اہل اسلام پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس غرض سے میں اب آپ کی تحریرات سابقہ و حال پر تفصیلی نکتہ چینی کرتا ہوں جس کا وعدہ اپنی تحریرات سابقہ میں دے چکا ہوں اس نکتہ چینی میں بالاستقلال تو آپ کا پر چہ نمبر ۵ نشانہ ہوگا مگر اس کے ضمن میں آپ کی جملہ تحریرات سابقہ کا جواب آجائے گا۔ بحول الله و قوته آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ جو تعامل میں آچکا ہے اس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں یہ حصہ بلا شبہ صحیح ہے مگر اس کی صحت نہ روایت کی رو سے ہے بلکہ تعامل کے ذریعہ سے۔ دوسرا وہ حصہ جس پر تعامل نہیں پایا گیا یہ حصہ یقینا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مدار صرف اصول روایت پر ہے اور اصول روایت سے صحت کا ثبوت اور کامل اطمینان نہیں ہو سکتا ہاں اس حصہ کی قرآن کریم سے موافقت ثابت ہو تو یہ بھی یقینا صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس قول سے ثابت ہے اور یہ ہی جتانا اس وقت مدنظر ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایت اور قوانین درایت سے محض ناواقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے نا آشنا۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ ضروریات دین اصطلاح علماء اسلام میں کس کو کہتے ہیں اور تعامل کی کیا حقیقت ہے اور وہ جملہ احادیث معاملات و احکام سے متعلق کیونکر ہوسکتا ہے اور اہل اسلام کے نزدیک اصول تصحیح روایت کیا ہیں ۔ خاکسار ہر ایک امر سے آپ کو اور دیگر نا واقف ناظرین کو مطلع کر کے یہ جتانا چاہتا ہے کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ نا واقعی پرمبنی ہے اور وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہو سکتا۔ پس واضح ہو کہ ضروریات دین وہ کہلاتے ہیں جو دین سے ضرورۃ یعنی بداهة اور بلافکر معلوم ہوں اور نہ وہ امور جن کی طرف دین کی ضرورت یعنی حاجت متعلق ہو۔ ضرورت سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت کی کوئی حدیث خارج و مستی نہیں ہوتی۔ آنحضرت نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت و ضرورت کے متعلق ہے اس صورت میں دوسرا حصہ احادیث جس کو آپ یقیناً صحیح نہیں جانتے ضروریات دین میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ضروریات سے میری مراد بھی وہی ہے جو تم نے بیان کی ہے تو پھر جملہ احکام معاملات و عقود کو ضروریات میں شامل کرنا غلط قرار پاتا ہے۔ احکام متعلقہ معاملات بلکہ عبادات جملہ ایسے نہیں جو ہداھہ دین سے ثابت ہوں کسی حکم یا امر پر تعامل کی صورت یہ ہے