اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 47
۴۷ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ طور پر کہتے ہیں کہ اگر کتاب بخاری ومسلم کی احادیث کو موافق قرآن نہ پاؤں گا تو میں اس کو موضوع قرار دوں ۴۵ ) گا اور نہ مجھے بخاری و مسلم سے حسن ظن ہے میں خواہ مخواہ یعنی قبل از وقت و بلاضرورت ان کی احادیث کو موضوع قرار دینا ضروری نہیں سمجھتا ضرورت ہوگی یعنی قرآن سے ان کی موافقت نہ ہو سکے تو موضوع قرار دوں گا۔ ہر چند آپ کے اس شرطی جواب پر بھی حق و اختیار حاصل ہے کہ میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ کروں لیکن اب میری یہ امید کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں گے قطع ہو گئی اور میں یہ بھی جان چکا ہوں کہ میرے اس مطالبہ پر بھی آپ ۲۶ صفحہ یا اس سے دو چند ۵۲ صفحہ بھی ایسے ہی لایعنی اور فضول باتوں کا اعادہ کریں گے جو اس وقت تک مکر رسہ کرر تحریر کر چکے ہیں جن سے آپ کا تو یہ فائدہ ہے کہ آپ کے مرید حاضر مجلس یہ کہیں گے اور کہہ رہے ہیں سبحان اللہ " ہمارے حضرت مسیح اقدس کس قدر طولانی تحریرات کرتے ہیں اور کتنے صفحہ کاغذات پر کرتے ہیں اور جیسوں آیات قرآن تحریر فرماتے جاتے ہیں اور یہی فائدہ اس تحریر سے آپ کو پیش نظر ہے مگر میرے اوقات کا کمال حرج ہے مجھے اس بحث کے علاوہ اور بھی بہت سے اہم کام دامنگیر ہیں لہذا اب میں آپ سے اس سوال کے جواب کا مطالبہ نہیں کرتا اور میں ناظرین اور سامعین کو آپ کی طولانی تحریرات کے وہ نتائج بتانا چاہتا ہوں جن نتائج کے جتانے کی غرض سے میں اب تک آپ کے جواب پر نکتہ چینیاں کرتا رہا ہوں میرا یہ مقصود نہ ہوتا تو جو میں آپ کے پرچہ نمبرس کے جواب میں لکھ چکا تھا کہ آپ نے قبولیت حدیث کی شرط بتائی ہے مگر یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ شرط احادیث صحیحین میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔ وبناء عليه و واحادیث صحیح ہیں یا نہیں اس پر اکتفا کرتا اور اس کے جواب دینے پر آپ کو مجبور کرتا اور دوسری کوئی بات آپ کی نہ سنتا کیونکہ ہر شخص جس کو فن مناظرہ میں ادنی مس ہو یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی اپنے مناظر و مخاطب سے اصول تسلیم کرانا چاہے کوئی اصول پیش کر کے اس سے دریافت کرے کہ آپ اس اصول کو مانتے ہیں یا نہیں تو اس کے مخاطب کا فرض صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرے یا اس سے انکار کرے اس سے زیادہ کسی اصول کے تسلیم یا عدم تسلیم کی وجہ بیان کرنا اس کا فرض نہیں ہوتا یہ اس صورت میں اور اسی وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا مقابل صاحب تمہید اس کی تعلیم کے یا عدم تسلیم کے خلاف کا مدعی ہو اور اپنے مہندہ اصول پر دلائل قائم اللہ اللہ ! مولوی صاحب کے بغض و عناد کی کوئی حد باقی نہیں رہی بات بات پر جلے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ ناظرین اس راز کو ہم کھولے دیتے ہیں غور سے سنیئے اور انصاف کیجئے جس دن حضرت مرزا صاحب نے مضمون نمبر ۵ سنایا چونکہ ایک عارف ملہم مؤید من اللہ کے کلام میں قدرتی تاثیر ہوتی ہے اکثر حاضرین کے منہ سے بے اختیار سبحان اللہ نکل گیا اور عموم حاضرین کے چہروں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا تھا کہ استیلائے اثر سے وجد و رقت ان پر طاری ہورہی ہے ہمارے زاہد خشک مولوی صاحب کو یہ نظارہ بھی سخت جانگزا گذرا ۔ یہ کہہ دینا اور عمداً ایمان کے خلاف اظہار کرنا کہ وہ مریدین کی جماعت تھی بڑی آسان بات ہے اس سے مرزا صاحب کے مضامین کی خداداد خوبی اور قدر کم نہیں ہوسکتی ۔ مضامین موجود ہیں خود پبلک دیکھ لے گی ۔ ایڈیٹر