اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 39
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۹ مباحثہ لدھیانہ عوام کے سمجھانے کیلئے جو لا یمسہ کے گروہ میں داخل ہیں زیادہ تر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ۳۷ ہے۔ لیکن جو اس امت میں الا المطهرون کا گروہ ہے۔ وہ قرآن کریم کی اپنی تفسیروں سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ لکھنا چنداں ضروری نہیں ضروری امر تو صرف اسی قدر ہے کہ ہر یک حدیث مخالف ہونے کی حالت میں قرآن کریم پر پیش کرنی چاہئے ۔ چنانچہ یہ امر ایک مشکوۃ کی حدیث سے بھی حسب منشاء ہمارے بخوبی طے ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے وعن الحارث الا عــور قال مررت في المسجد فاذا الناس يخوضون في الاحاديث فدخلت على على فاخبرته فقال اوقد فعلوها قلت نعم قال اما اني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الا انها ستكون فتنة قلت ما المخرج منها يارسول الله قال كتاب الله فيه خبر ماقبلكم وخبر ما بعدكم وحكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله ومن ابتغى الهدى في غيره اضله الله وهو حبل الله المتين ۔۔۔۔۔۔ من قال به صدق و من عمل به اجر ومن حکم به عدل ومن دعا اليه هدى الى صراط مستقیم ۔ یعنی روایت ہے حارث اعور سے کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے تھے اور حدیثوں میں خوض کر رہے تھے گزرا۔ سو میں یہ بات دیکھ کر کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسری حدیثوں میں کیوں لگ گئے۔ علی کے پاس گیا اور اس کو جا کر یہ خبر دی ۔ علی نے مجھے کہا کہ کیا بچ بچ لوگ احادیث کے خوض میں مشغول ہیں اور قرآن کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تب علی نے مجھے کہا کہ یقینا سمجھ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ ہوگا یعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں لگیں گی اور اختلاف میں پڑیں گے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے تب میں نے عرض کی کہ اس فتنہ سے کیونکر رہائی ہوگی تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی اس میں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنے والے لوگوں کی بھی خبر ہے اور جو تم میں تنازعات پیدا ہوں ان کا اس میں فیصلہ موجود ہے وہ قول فصل ہے۔ ہل نہیں ۔ جو شخص اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اور اس کو حکم نہیں بنائے گا۔ خدا تعالی اس کو گمراہ کر دے گا۔ وہ حبل اللہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ماجور ہے اور جس نے اس کے رو سے حکم کیا اس نے عدالت کی اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔ رواہ الترمذى والدارمی ۔ اب ظاہر ہے کہ اس حدیث میں صاف اور صریح طور پر خبر دی گئی ہے کہ اس وقت میں فتنہ ہو جائے گا اور لوگ طرح طرح کی ہدایت نکال لیں گے اور انواع واقسام کے اختلافات اس وقت میں باہم پڑ جائیں گے تب اس فتنہ سے مخلصی پانے کیلئے قرآن کریم ہی دلیل ہو گا جو شخص اس کو محک