اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 38

۳۸ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ فيه كل ذكر ليكون بعض الذكر تفسيرا لبعضه تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم يعنى يستولى جلاله وهيبته على قلوب العشاق لتقشعر جلودهم من كمال الخشية والخوف يجاهدون في طاعة الله ليلا ونهارا بتحریک تاثیرات جلالية و تنبيهات قهرية من القرآن ثم يبدل الله حالتهم من التألم الى التلذذ فيصير الطاعة جزو طبيعتهم وخاصة فطرتهم فتلين جلودهم و قلوبهم الى ذكر الله۔ یعنی ليسيل الذكر في قلوبهم كسيلان الماء ويصدر منهم كل امر في طاعة الله بكمال السهولة والصفاء ليس فيه ثقل ولا تكلف ولا ضيق في صدورهم بل يتلذذون بامتثال امر الههم ويجدون لذة وحلاوة في طاعة مولاهم وهذا هو المنتهى الذى ينتهى اليه امر العابدين والمطيعين فيبدل الله آلامهم باللذات * اب ان تمام محامد سے جو قرآن کریم اپنی نسبت بیان فرماتا ہے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد عظیمہ کی آپ تغییر فرماتا ہے اور اس کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں بھی حدیثوں کا محتاج ہے ۔ بلکہ صرف ایسے امور جو سلسلۂ تعامل کے محتاج تھے وہ اسی سلسلہ کے حوالہ کر دئیے گئے ہیں اور ماسوا ان امور کے جس قدر امور تھے ان کی تفسیر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہاں باوجود اس تفسیر کے حدیثوں کی رو سے بھی ترجمہ یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہرا دوہرا کر بیان کی گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔ اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اس لئے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ دل و جان کوشش کرتے ہیں پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی ان کی اس حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت وسرور سے بدل ڈالتا ہے۔ چنانچہ اس وقت طاعت الہی ان کی جزو بدن اور خاصہ فطرت ہو جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رفت اور لینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر بات طاعت الہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے امر کی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنے مولی کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے بیس عابدوں اور مطبیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے۔ ایڈیٹر۔