اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 31

روحانی خزائن جلد ۴ پر چه نمبر ۵! مولوی صاحب! ۳۱ مباحثہ لدھیانہ میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے پھر بھی میرے سوال کا جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا آپ نے بیان کیا ہے کہ میں آپ سے ان کتب کی صحت تسلیم کرانا چاہتا ہوں اور آپ اس تسلیم کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ اس کو ایک غلط اصول فرضی و خیالی اجماع پر مبنی قرار دیتے ہیں پھر صاف الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ تمھیجین کے جملہ احادیث بلا وقفہ ونظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں ہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے جب تک آپ ایسے صریح الفاظ میں اس مطلب کو ادا نہ کریں گے اس سوال کے جواب سے سبکدوش نہ ہوں گے خواہ برسوں گزر جائیں آپ حدیث إِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرُكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ کو پیش نظر رکھ کر خارج از سوال باتوں سے تعرض کرنا چھوڑ دیں اور دو حرفی جواب دیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں۔ (۲) آپ فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث صحیح بخاری یا مسلم کو موضوع نہیں کہا ( لفظ موضوع آپ کے کلام میں غیر صحیح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ) اور یہ امر کمال تعجب کا موجب ہے کہ آپ جیسے مدعیان الہام ایسی بات خلاف واقعہ کہیں ۔ آپ نے رسالہ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۰ میں دمشقی حدیث کی نسبت کہا ہے ۔ ” یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئيس المحدثين امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے ۔“ اب انصاف سے فرماویں کہ اس حدیث صحیح مسلم کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے یا نہیں اور اگر آپ یہ عذر کریں کہ میں صرف ناقل ہوں اس کو ضعیف کہنے والے امام بخاری ہیں تو آپ تصحیح نقل کریں اور صاف فرماویں کہ امام بخاری نے اس کو فلاں کتاب میں ضعیف قرار دیا ہے یا کسی اور امام محدث سے نقل کریں کہ انہوں نے امام بخاری سے اس حدیث کی تضعیف نقل کی ہے ورنہ آپ اس الزام سے بری نہ ہوسکیں گے کہ آپ نے صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف قرار دیا اور پھر اس اپنی تحریر میں اس سے انکار کیا ۔ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۶ میں آپ فرماتے ہیں۔ اب بڑے مشکلات یہ در پیش آتے ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں موضوع ٹھہرتی ہیں۔ اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اس کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے اور اگر یہ متعارض و متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے ان دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی کہ ان ہی دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسم کی حدیثیں موجود ہیں ۔ حمد نوٹ اللہ اللہ ! چشم باز و گوش باز و ایں ذکا + خیره ام در چشم بندی خدا۔ آپ کا یہ افسوس ختم ہونے میں نہیں آتا اور شائد موت ( یعنی اختتام مباحثہ ) تک اس افسوس سے نجات نصیب نہ ہو۔ اچھا دیکھیں ۔ ایڈیٹر ۲۹