اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 19
روحانی خزائن جلد ۴ 19 مباحثہ لدھیانہ که احادیث کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم صحیح و واجب اعمل ہیں یا غیر صحیح و نا قابل عمل ۔ اور (1) معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے منہ سے یہ کہلایا چاہتے ہیں کہ میں اس بات کا اقرار کروں کہ یہ سب کتابیں صحیح اور واجب العمل ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو غالباً آپ خوش ہو جائیں گے اور فرما ئیں گے کہ اب میرے سوال کا جواب پورا پورا آ گیا۔ لیکن میں سوچ میں ہوں کہ میں کس شرعی قاعدہ کے رو سے ان تمام حدیثوں کو بغیر تحقیق و تفتیش کے واجب العمل یا صحیح قرار دے سکتا ہوں؟ طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کاملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ ، کیا جاوے اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَّيْكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا سو اگر میں دلیری کر کے اس معاملہ میں دخل دوں اور یہ کہوں کہ میرے نزدیک جو کچھ محدثین خصوصاً امامین بخاری اور مسلم نے تنقید احادیث میں تحقیق کی ہے اور جس قدر احادیث وہ اپنی صحیحوں میں لائے ہیں وہ بلاشبہ بغیر حاجت کسی آزمائش کے صحیح ہیں تو میرا ایسا کہنا کن شرعی وجو ہات و دلائل پر مبنی ہوگا ؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے ہیں اور مجتہد بھی مصیب اور بھی مخطی بھی ہوتا ہے ۔ جب میں سوچتا ہوں کہ ہمارے بھائی مسلمان موحدین نے کس قانون قطعی اور یقینی کی رو سے ان تمام احادیث کو واجب العمل ٹھہرایا ہے؟ تو میرے اندر سے نور قلب یہی شہادت دیتا ہے کہ صرف یہی اک وجہ ان کے واجب العمل ہونے کی پائی جاتی ہے کہ یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ علاوہ اس خاص تحقیق کے جو تنقید احادیث میں ائمہ حدیث نے کی ہے۔ وہ حدیثیں قرآن کریم کی کسی آیہ محکمہ اور سینہ سے منافی اور متفائر نہیں ہیں اور نیز اکثر احادیث جو احکام شرعی کے متعلق ہیں تعامل کے سلسلہ سے قطعیت اور یقین تام کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں ۔ ورنہ اگر ان دونوں وجوہ سے قطع نظر کی جائے تو پھر کوئی وجہ ان کے یقینی الثبوت ہونے کی معلوم نہیں ہوتی ۔ ہاں یہ ایک وجہ پیش کی جائے گی کہ اسی پر اجماع ہو گیا ہے لیکن آپ ہی ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۳۰ میں اجماع کی نسبت لکھ چکے ہیں کہ اجماع اتفاقی دلیل نہیں ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :۔ اجماع میں اولاً یہ اختلاف ہے کہ یہ ممکن یعنی ہو بھی سکتا ہے یا نہیں بعضے اس کے امکان کو ہی نہیں مانتے۔ پھر ماننے والوں کا اس میں اختلاف ہے کہ اس کا علم ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ایک جماعت امکان علم کے بھی منکر ہیں۔ امام فخر الدین رازی نے کتاب محصول میں یہ اختلاف بیان کر کے فرمایا ہے ا بنی اسرائیل: ۳۷