اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 18
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸ پر چہ نمبر ۳ مولوی صاحب مباحثہ لدھیانہ نوٹ: اس کے بعد مولوی صاحب نے چند سطر کا پھر ایک سراسر فضول جواب جس میں اعادہ پہلے ہی بیان کا تھا۔ دیا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ میرا جواب آپ نے اب تک نہیں دیا۔ چونکہ وہ پرچہ بہت مختصر اور صرف چند سطر میں تھا۔ غالباً انہیں کے ہاتھ میں رہا یا گم ہو گیا بہر حال اس کا مفصل جواب لکھا جاتا ہے اور اس سے مولوی صاحب کے پرچہ کا مضمون بھی بخوبی ذہن نشین ہو جائے گا۔ افسوس مولوی صاحب کی یہ شکایت کہ ان کے سوال کا جواب نہیں ملا ساتھ ساتھ لگی جاتی ہے۔ ناظرین غور کریں۔ ایڈیٹر میرزا صاحب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي آپ نے پھر میرے پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے آپ کے سوال کا جواب صاف نہیں دیا میں حیران ہوں کہ میں کن الفاظ میں اپنے جواب کو بیان کروں یا کس پیرایہ میں ان گزارشوں کو پیش کروں تا آپ اس کو واقعی طور پر جواب تصور فرما دیں آپ کا سوالجواس تحریر اور پہلی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے یہ ہے حمد نوٹ :- عالی جناب ! ( روح من فدائے تو ) آپ کیوں حیرت میں پڑنے کی تکلیف اٹھاتے ہیں مولوی صاحب تو یہی بے تکی ہانکے چلے جائیں گے جب تک آپ ان کے مافی البطن کے میلان کے موافق یا یوں کہیئے کہ جب تک آپ خلاف صدق وسداد کے جواب نہ دیں۔ اہل بصیرت تسلیم کر چکے ہیں کہ آپ صاف مدلل اور مسکت جواب دے چکے ہیں اور کئی بار دے چکے ہیں۔ آپ نے اس قوم کے بودے تار و پود کو دھیر کر رکھ دیا ہے اس بات کا دلی شعور مولوی صاحب کو بے قرار کر کے ان کے منہ سے یہ مجنونانہ فقرہ انکلواتا ہے وہ یاد رکھیں کہ ان کی مغالطہ دہی کا وقت جاتا رہا۔ اڈیٹر