اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 14
۱۴ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد۴ (۱۲) خواہ وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی ہو اس شرط سے ہم کسی خاص معنوں میں جو بیان کئے جاتے ہیں قبول کریں گے کہ وہ حدیث ان معنوں کے رو سے قرآن کریم کے بیان سے موافق و مطابق ہو ۔ اب زبانی بیان سے معلوم ہوا کہ آپ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اصول روایت کی رو سے کتب حدیث خصوصاً صحیحین مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں۔ اور ان کتابوں کی احادیث بلا وقفہ واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جن پر عمل و اعتقاد چائز نہیں۔“ اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ چونکہ حدیثوں کا جمع ہونا ایسے یقینی اور قطعی طور سے نہیں کہ جس سے انکار کرنا کسی طور سے جائز نہ ہوا اور جس پر ایمان لانا اسی پایہ اور مرتبہ کا ہو جیسا کہ قرآن کریم پر ایمان لانا۔ لہذا ہمارا یہ مذہب ہرگز ایسا نہیں ہے کہ روایت کے رو سے بھی حدیث کو وہ مرتبہ یقینی دیں جیسا کہ ہم قرآن کریم کا مرتبہ اعتقاد رکھتے ہیں تاہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حدیثیں غایت کا رظنی ہیں اور جب کہ وہ مفیدظن ہیں تو ہم کیونکر روایت کی رو سے بھی ان کو وہ مرتبہ دے سکتے ہیں جو قرآن کریم کا مرتبہ ہے۔ جس طور سے حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس طریق پر ہی نظر ڈالنے سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ ہم اس یقین کے ساتھ انکی صحت روایت پر ایمان لاویں کہ جو قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں مثلاً اگر کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی ہے لیکن قرآن کریم کے کھلے کھلے منشاء سے برخلاف ہے تو کیا ہمارے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہم اسکی مخالفت کی حالت میں قرآن کریم کو اپنے ثبوت میں مقدم قرار دیں؟ پس آپ کا یہ کہنا کہ احادیث اصول روایت کی رو سے ماننے کے لائق ہیں ۔ یہ ایک دھوکا دینے والا قول ہے کیونکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حدیث کے ماننے میں جو مرتبہ یقین کا ہمیں حاصل ہے وہ مرتبہ قرآن کریم کے ثبوت سے ہموزن ہے یا نہیں؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مرتبہ ثبوت کا قرآن کے مرتبہ ثبوت سے ہم وزن ہے تو بلا شبہ ہمیں اسی پایہ پر حدیث کو مان لینا چاہئے مگر یہ تو کسی کا بھی مذہب نہیں تمام مسلمانوں کا یہی مذہب ہے که اکثر احادیث مفید ظن ہیں ۔ وَالظَّنُّ لا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا مثلاً اگر کوئی شخص اس قسم کی قسم کھاوے کہ اس حدیث کے تمام الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جلا نوٹ لیجئے مولوی صاحب فیصلہ شد ۔ اب اس سے زیادہ صاف جواب آپ اور کیا چاہتے ہیں امید ہے کہ آئندہ آپ شکایت نہ کریں گے۔ اڈیٹر