اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 13
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳ مباحثہ لدھیانہ تو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ اکثر احادیث غایت درجہ مفید ظن ہیں اور ظنی نتیجہ کی منتج ہیں اور 19 اگر کوئی حدیث تو اتر کے درجہ پر بھی ہوتا ہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں بالفعل اسی قدرلکھنا کافی ہے۔ دستخط غلام احمد ۲۰ / جولائی ۹۱عہ پر چہ نمبر ۲ مولوی صاحب آپ کے کلام میں میرے سوال کا صاف اور قطعی جواب نہیں * ہے آپ نے قبولیت و جیت حدیث یا سنت کی ایک شرط بتائی ہے۔ یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس حدیث یا سنت میں جو کتب حدیث خصوصا صحیحین میں ہے جن کا ذکر اصول سیوم میں ہے پائی جائے متحقق ہے یا نہیں بناء علیہ وہ حدیث یا سنت جو ان کتب میں ہے حجت شرعی ہے یا نہیں علاوہ براں اس کلام میں آپ نے جو شرط حجیت و قبولیت بیان کی ہے وہ شرط قانون درایت ہے نہ قانون روایت۔ اب آپ یہ بیان کریں کہ اصول روایت کے رو سے کتب حدیث خصوصاً صَحِيحَين جن کا ذکر اصل سیوم میں ہے مثبت سنت نبویہ ہیں یا نہیں اور ان کتابوں کی احادیث بلا وقفہ و شرط واجب العمل والاعتقاد ہیں یا ان کتابوں میں ایسی احادیث بھی ہیں جن پر بلا تحقیق صحت بحسب اصول روایت عمل و اعتقاد جائز نہیں۔ ابو سعید محمد حسین ۲۰ ؍جولائی ۱۸۹۶ء مرزا صاحب مولوی صاحب کا جواب سن کر میں عرض کرتا ہوں کہ میرے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر یک حدیث لا مولوی صاحب کی سمجھ پر ہمیں حیرت آتی ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے تو صاف اور قطعی جواب دے دیا ہے آپ ایک مخفی غرض کو سینہ میں دبا کر کیوں لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب صاف فرماتے ہیں ۔ " جوا مرقول یا فعل یا تقریر کے طور پر ان خواہ وہ احادیث صحیحیں کی ہوں یا غیر صحیحین کی + اڈیٹر۔