اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 12

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۲ مباحثہ لدھیانہ (۱۰) وہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معافی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثِ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ لا یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ۔ ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔ سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار د یوے اور یہی میرا مذ ہب ہے۔ (۲) اور آپ کے دوسرے امر مندرجہ صفحہ ۱۹ اشاعۃ السنہ کی نسبت علیحدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا جواب اسی میں آگیا ہے یعنی جو امر قول یا فعل یا تقریر کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم اس امر کو بھی اسی محک سے آزمائیں گے اور دیکھیں گے کہ حسب آیہ شریفہ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ " وہ حدیث قولی یا فعلی قرآن کریم کی کسی صریح اور بین آیت سے مخالف تو نہیں ۔ اگر مخالف نہیں ہوگی تو ہم بسر و چشم اس کو قبول کریں گے اور اگر بظاہر مخالف نظر آئے گی تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے اور اگر ہم باوجود پوری پوری کوشش کے اس امر تطبیق میں ناکام رہیں گے اور صاف صاف کھلے طور پر ہمیں مخالف معلوم ہوگی تو ہم افسوس کے ساتھ اس حدیث کو ترک کر دیں گے ۔ کیونکہ حدیث کا پایہ قرآن کریم کے پایہ اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ قرآن کریم وحی متلو ہے۔ اور اس کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں وہ اہتمام بلیغ کیا گیا ہے کہ احادیث کے اہتمام الجاثية - الاعراف: ۱۸۶