اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 8

روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ حدیث ( متعلق فقص ۔ ایام و اخبار ) ہو کہ قرآن کریم کے سخت مخالف پڑی ہو تو وہ کتاب اللہ کو بہمہ وجوہ واجب الادب واجب التعظیم اور واجب التفضیل سمجھ کر اس حدیث کی صحت سے انکار کرتے ہیں ۔ اور ٹھیک حضرت صدیقہ کی طرح جیسا کہ انہوں نے اس روایت کو إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِه قرآن کریم کی آیت لَا تَزرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى ل کے مقابلہ ط میں رد کر دیا تھا۔ حضرت اقدس مرزا صاحب (جن کا اصلی مشن اور منصبی فرض قرآن مجید کی عظمت کا دنیا میں قائم کرنا اور اسی کی تعلیم کا پھیلانا ہے ) بھی ایسی مخالف ومعارض قرآن حدیثوں کو ( اگر ہوں اور پھر جس کتاب میں ہوں ) قرآن کے مقابلہ میں بلا خوف لومۃ لائم کے رد کر دیتے ہیں۔ اے ناظرین ۔ اے ناظرین ۔ اے عاشقان کتاب رب العلمین! اللہ سوچو! اس اعتقاد میں کیا قباحت ہے! اس پر یہ کیسا نا شدنی ہنگامہ ہے جو ابنائے روزگار نے مچارکھا ہے ! لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ نہیں ہوا۔ گو بالصراحت چونکہ اس اصل متنازع فیہ مسائل میں گفتگو نہیں ہوئی نہ کہا جا سکے کہ بین فیصلہ ہوا مگر مرزا صاحب کے جوابات کے پڑھنے والوں پر پوری وضاحت سے کھل جائے گا کہ احادیث کی دو قسمیں کر کے دوسری قسم کی حدیثوں کو جو تعامل کی قوت سے تقویت یافتہ نہ ہوں اور پھر قرآن کریم سے معارضہ کرتی ہوں حضرت مرزا صاحب نے تردید کر کے در حقیقت امر متنازع فیہ کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ گویا صاف سمجھا دیا ہے کہ قرآن مجید صریح منطوق سے حضرت مسیح کی موت کی خبر دیتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے۔ اب اگر کوئی حدیث نزول ابن مریم کی خبر دیتی ہو تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مثیل مسیح کی خبر دیتی ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہوگا جو بوجہ من الوجوہ قرآن سے تطبیق نہ دیا جا سکے تو وہ ضرور ضرور رو کی جائے گی ۔ پس بہر حال قرآن کریم اکیلا بلا کسی منازع و حریف کے میدان اثبات دعوی میں کھڑا رہا اور حق بھی یہی ہے کہ وہ تنہا بلاکسی مد مقابل کے اپنی نصوص کی صداقت ثابت کرنے والا ہو اور کسی کتاب کسی نوشتہ اور کسی مجموعہ کی کیا طاقت کیا مجال ہے کہ اس کے دعاوی کو توڑنے کا دم مار سکے اور یہی مرزا صاحب کا مدعا ہے۔ سو در اصل وہ فیصلہ دے چکے اور کر چکے ہیں ۔ ہمارا ارادہ تھا کہ مولوی ابوسعید صاحب کے اشتہار ودیا نہ مورحہ یکم اگست کی ان باتوں پر توجہ کرتے جن کے جواب کی تحریر کا فاطر: ۱۹